ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیریوں کو ’لینڈ گریبر‘ کہنے والی حکومت آج عوام پر بلڈوزر چلارہی ہے: موہت بھان
موہت بھان نے کہاکہ آج کشمیر اور جموں دونوں خطوں میں غریب عوام کے گھروں پر پیلا پنجہ چلایا جا رہا ہے۔


Published : May 20, 2026 at 2:02 PM IST
شوپیان (شاہد ٹاک) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجمان موہت بھان نے جموں و کشمیر کی موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت عوام سے ووٹ لے کر انہی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت لوگوں کی “آنکھوں میں دھول جھونکنے” کا کام کر رہی ہے اور غریب عوام کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔
موہت بھان نے ایک بیان میں کہا کہ پی ڈی پی کے ایک رکن اسمبلی نے کاہ چرائی اور دیگر مقامات پر پانچ یا دس مرلہ اراضی پر قابض غریب خاندانوں کو مالکانہ حقوق دینے کے لیے ایک بل پیش کیا تھا، مگر حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کو “لینڈ گریبر” اور “زمین کے چور” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسی پالیسی کے نتیجے میں کشمیر اور جموں دونوں خطوں میں غریب عوام کے گھروں پر پیلا پنجہ چلایا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کے وزراء کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن محکموں نے انہدامی کارروائیاں کیں، انہی کے وزراء متاثرہ علاقوں میں جا کر “گھڑیالی آنسو” بہا رہے ہیں اور انکوائری کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزراء کو اپنے ہی محکموں کی کارروائیوں کا علم نہیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔
پی ڈی پی ترجمان نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے حکومت کو پیشکش کی تھی کہ اگر پارٹی کے بل میں کوئی خامی ہے تو حکومت اپنا بل لے آئے، پی ڈی پی اس کی حمایت کرے گی، مگر غریب عوام کو ریلیف ضرور دیا جائے۔ تاہم حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
اسٹیٹ ہُڈ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے موہت بھان نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینا کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں اس حوالے سے یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں، اس لیے اسٹیٹ ہُڈ میں تاخیر آئینی ضمانتوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لداخ میں اسرو کا نیا نیا ٹیلی اسکوپ، خلائی نگرانی میں بھارت کی بڑی پیش رفت
انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ صرف اسٹیٹ ہڈ نہیں بلکہ وہ حقوق ہیں جو پانچ اگست 2019 کے بعد متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔

