ETV Bharat / jammu-and-kashmir
نیپورہ اننت ناگ میں بابا نصیب الدین غازیؒ کا سالانہ عرس، عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا
عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ بابا نصیب الدین غازیؒ کی تعلیمات آج بھی تمام لوگوں کے لیے رہنمائی اور بخشش کا ذریعہ ہیں۔


Published : August 28, 2026 at 2:50 PM IST
اننت ناگ (دین عمران) ضلع اننت ناگ کے نیپورہ علاقے میں معروف بزرگ اور روحانی پیشوا بابا نصیب الدین غازیؒ کا سالانہ عرس نہایت عقیدت، مذہبی جوش و خروش اور روحانی ماحول میں منایا گیا۔ عرس کی تقریبات میں ضلع اننت ناگ اور جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور آستانِ عالیہ پر حاضری دے کر بابا نصیب الدین غازیؒ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
عرس کے موقع پر آستانِ عالیہ میں دن بھر عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگوں نے مزارِ اقدس پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور اپنے لیے، اپنے اہلِ خانہ اور پوری امت کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔ اس موقع پر آستانِ عالیہ کا ماحول روحانی کیفیت سے معمور رہا اور عقیدت مندوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اپنی حاضری پیش کی۔
عرس کی مناسبت سے خصوصی دعائیہ مجالس کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی، بھائی چارے، باہمی ہم آہنگی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ علمائے کرام اور مذہبی شخصیات نے اپنے خطابات میں اولیائے کرام کی تعلیمات، انسانیت سے محبت، اخوت، رواداری اور امن کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔
عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ بابا نصیب الدین غازیؒ کی تعلیمات آج بھی لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کا آستانہ عرصہ دراز سے عقیدت مندوں کے لیے روحانی وابستگی کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں مختلف علاقوں سے لوگ اپنی عقیدت کا اظہار کرنے اور دعائیں مانگنے کے لیے پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا نصیب الدین غازی نے مذکورہ علاقے میں 12 سال عبادت کی۔

عرس کے دوران زائرین کے لیے مختلف انتظامات بھی کیے گئے، جبکہ آستانِ عالیہ کے اطراف میں آنے والے عقیدت مندوں کی سہولت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ قابلِ ذکر ہے کہ بابا نصیب الدین غازیؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر ہر سال بڑی تعداد میں لوگ نیپورہ پہنچتے ہیں اور اس روحانی اجتماع میں شرکت کرتے ہیں۔
یہ اجتماع نہ صرف عقیدت مندوں کو بزرگ کی تعلیمات سے جوڑتا ہے بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی صوفیانہ روایت، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی خوبصورت عکاسی بھی کرتا ہے۔ عرس کے اختتام پر خصوصی دعا کی گئی، جس میں جموں و کشمیر میں پائیدار امن، ترقی و خوشحالی، قدرتی آفات سے حفاظت، عوام کی سلامتی اور پورے خطے میں بھائی چارے اور باہمی محبت کے فروغ کے لیے دعا مانگی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے سیچوان میں 5.1 شدت کا زلزلہ، نیپال میں تازہ سیلاب کا الرٹ، ریسکیو آپریشن روک دیا گیا
تاریخی روایات کے مطابق عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا نصیب الدین غازیؒ نے 13 محرم 1047 ہجری کو وفات پائی، جبکہ بعض تاریخی حوالوں میں ان کی تاریخِ وفات 6 جون 1637ء بھی بیان کی گئی ہے۔ حضرت بابا نصیب الدین غازیؒ کا آستانۂ عالیہ ضلع اننت ناگ کے قصبہ بجبہاڑہ میں واقع ہے، جہاں یہ عظیم صوفی بزرگ آسودۂ خاک ہیں۔ جہاں آج بھی دور دراز علاقوں سے بڑی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں اور فاتحہ خوانی و دعا کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

