ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ایران میں درماندہ بھارتی طلبہ نے وزیر اعظم سے کی انخلاء کی درخواست

ایران میں پھنسے بعض طلبہ نے ویڈیو پیغامات شیئر کیے ہیں جن میں ہو انخلاء کی درخواست کر رہے ہیں۔

ا
تہران میں آزادی اسکوائر نامی علاقے میں دھماکے کے بعد کا منظر (اے این آئی)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : February 28, 2026 at 6:02 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کے بعد ایران میں مقیم بھارتی طلباء میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے، طلباء کی ایک تنظیم نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے انخلاء کے لئے خط لکھا ہے۔

تہران میں زیر تعلیم ایک بھارٹی خاتون طالبہ نے میزائل حملوں کی وجہ سے ہوئے زور دار دھماکوں کے درمیان ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے خوفزہ آواز میں کہا۔ "صورتحال بہت خراب اور غیر یقینی ہے، ہم نہیں جانتے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔" ویڈیو میں وہ مزید کہتی ہیں: "براہ کرم، حالات کے مزید خراب ہونے کا انتظار نہ کریں۔ جتنی جلدی ممکن ہو ہم جلدی سے انخلاء کی درخواست کرتے ہیں۔ بس ہماری مدد کریں اور ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکالیں۔"

ایران سے تعلق رکھنے والی ایک اور ایم بی بی ایس کی طالبہ اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی والی مہک حسین نامی طالبہ نے کہا کہ ملک میں صبح سے کئی مقامات پر ہوئے دھماکوں کے بعد وہ کافی خوفزدہ ہیں۔

ایران میں ارمیا یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے چوتھے سال کے طالب علم نے بتایا: "تازہ حملے نے طلباء میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے کی ایڈوائزری کے باوجود، ہماری یونیورسٹی نے ہمیں طے شدہ امتحانات کی وجہ سے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔ ہم یہاں اس لیے ٹھہرے رہے کہ ہم اپنے کیریئر کے ساتھ نہیں کھیل سکتے۔ ہم انخلاء کی درخواست کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ جنگ رکے گی یا جاری رہے گی۔"

23 فروری کو تہران میں بھارتی سفارت خانے نے ہندوستانی شہریوں بشمول طلباء، زائرین، تاجروں اور سیاحوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایران میں کشیدگی اور مظاہروں کی وجہ سے پروازوں یا کسی بھی دستیاب ذرائع نقل و حمل سے بلا تاخیر ایران ترک کریں۔

جموں و کشمیر سے اس ملک میں 2,000 سے زیادہ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان میں بنیادی طور پر MBBS کورسز میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

تاہم طلباء کو انتهایی اہمیت کے حامل اور طے شدہ قومی امتحانات - اولومپایا اور 5 مارچ کو پری انٹرنشپ امتحان کی وجہ سے طلبہ نکل نہیں پائے کیونکہ ایرانی حکام نے ان امتحانات کو ملتوی کرنے سے انکار کردیا۔

آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے کہا کہ حکام نے اب امتحانات منسوخ کر دیے ہیں، انہوں نے درماندہ بھارتی طلباء کو فوری طور پر نکالنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے بھارتی طلبہ کی حفاظت اور انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ جے کے ایس اے کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے کہا: "طلبا غیر مستحکم حالات میں پھنس گئے ہیں۔"

کھوئیہامی مزید لکھتے ہیں: "آپ (پی ایم) کی رہنمائی میں حکومت ہند نے اپنے تیز رفتار انسانی ردعمل، انخلاء کے مشن، اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے دنیا بھر میں خاص عزت حاصل کی ہے.... عالمی سطح پر بھارتی شہریوں کا تحفظ سب سے اہم ہونا چاہیے۔" انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی طلباء کی زندگیوں، وقار اور ایران کے مستقبل کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے۔

درماندہ طلبہ کے والدین نے انٹرنیٹ منقطع ہونے کے بعد اپنے بچوں کی حفاظات معلوم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والے حیدر ، جن کی بیٹی ایران میں زیر تعلیم ہے، نے بتایا کہ انہوں نے کل اپنی دختر سے بات کی تھی تاہم تب سے رابطہ منقطع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بیٹی گزشتہ ماہ اس وقت واپس پہنچی جب ہندوستانی سفارت خانے نے بڑے پیمانے پر بدامنی کے بعد اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وہ صرف ایک ہفتہ قبل ہی ایران چلی گئی تھیں۔ اب، صورتحال بہت تشویشناک ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:

  1. عرب ممالک اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں سے شدید ناراض، کیا جوابی حملہ کریں گے؟ جانیں کس نے کیا کہا
  2. اسرائیل پر ایران، لبنان اور یمن سے چوطرفہ جوابی حملے، قطر، بحرین، کویت اور یو اے ای پر بھی داغے میزائل