ETV Bharat / jammu-and-kashmir
فاروق عبداللہ کا مرکز پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ
فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

Published : July 11, 2026 at 10:47 PM IST
سری نگر: (جاوید احمد ڈار) سرینگر میں آج ہفتہ کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت پر جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام کسی احسان کے طلبگار نہیں بلکہ اپنے آئینی حقوق اور وقار کی بحالی چاہتے ہیں۔
سری نگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ دہائیوں سے نئی دہلی کی جانب سے جموں و کشمیر کے حوالے سے کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے گا اور حالات کو بحال کیا جائے گا، تاہم یہ وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا، "ہم بھی انسان ہیں، ہم بھی بھارت کا تاج ہیں اور ہماری بھی اپنی عزت و وقار ہے۔"
فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس میں ان کے ہمراہ سینئر رہنما غلام نبی آزاد بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق اس ملاقات میں انہوں نے دہلی اور جموں و کشمیر کے درمیان اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، لیکن یقین دہانیوں کے باوجود مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ گیا۔
انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ لوگ عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے درحقیقت دہلی کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ "غلامی" ترک کریں، عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، اور خبردار کیا کہ عوامی مفادات سے غداری کرنے والوں کا احتساب ہوگا۔
فاروق عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پارٹی نے اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور سڑکوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔
اپنے سیاسی مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کسی رعایت یا احسان کی طلبگار نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے وہ حقوق مانگ رہی ہے جو ان کے اپنے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم کوئی ایسی چیز نہیں مانگ رہے جو ہماری نہ ہو، ہم صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ حق ہمیں واپس دیا جائے۔

