ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جموں میں 12 سال بے مثال ڈاکیومنٹری کی خصوصی نمائش، مودی حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا
جسروٹیا نے کہا کہ حکومت قومی خودمختاری اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔

Published : June 12, 2026 at 6:13 PM IST
جموں: (محمد اشرف گنائی) بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر یونٹ کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر "12 سال بے مثال" کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد جموں کلب میں کیا گیا۔ اس دوران مودی حکومت کی گزشتہ بارہ برسوں کی کارکردگی، اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات پر مبنی ڈاکیومنٹری کی خصوصی نمائش بھی کی گئی۔ بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمان ست شرما، جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما، لوک سبھا رکن پارلیمان جگل کشور شرما، رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، بی جے پی کی جنرل سیکریٹری سنجیتا ڈوگرا، جنرل سیکریٹری گوپال مہاجن اور پارٹی کے ترجمان ابھیجیت سنگھ جسروٹیہ سمیت متعدد سینئر رہنما موجود تھے۔
اس سے قبل 12 سال بے مثال کے موضوع پر منعقدہ میڈیا انٹریکشن کے دوران مقررین نے مودی حکومت کی مختلف عوامی فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اقتصادی اصلاحات، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں حاصل کردہ کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور عالمی سطح پر اپنی مضبوط شناخت قائم کی ہے۔
پروگرام کے بعد بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر ابھیجیت سنگھ جسروٹیا نے ای ٹی وی بھارت کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے ترقی، شفاف حکمرانی، خود انحصاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی توقعات کے مطابق کام کر رہی ہے اور بھارت کو ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے ابھیجیت سنگھ جسروٹیا نے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور بی جے پی اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے۔
جسروٹیا نے کہا کہ حکومت قومی خودمختاری اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ کانگریس پارٹی اور اس کی سابقہ قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈاکٹر جسروٹیا نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اور پی او جے کے مہاجرین کے معاملے میں ماضی کی حکومتوں نے سنگین تاریخی غلطیاں کیں۔
انہوں نے کہا کہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ایک بڑی غلطی تھا، جس کے تحت دریائے سندھ اور جہلم کے تقریباً 135 ملین ایکڑ فٹ پانی پر پاکستان کو اختیار دیا گیا، جبکہ بھارت کے حصے میں راوی، بیاس اور ستلج دریاؤں کا صرف 33 ملین ایکڑ فٹ پانی آیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانی کی اس غیر مساوی تقسیم کے طویل مدتی اثرات بھارت کی آبی سلامتی پر مرتب ہوئے ہیں، خصوصاً جموں و کشمیر اور پنجاب جیسے علاقوں میں اس کے نتائج محسوس کیے گئے ہیں ڈاکٹر جسروٹیا نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے مہاجرین کے لیے مناسب معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق اندرا گاندھی نے اُس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو منگلا ڈیم کی تکمیل پر مبارکباد تو دی، لیکن متاثرہ مہاجرین کے حقوق اور معاوضے کو یقینی بنانے میں ناکام رہیں انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جموں و کشمیر اور پی او جے کے مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور تاریخی ناانصافیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

