ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بچوں کی پیدائش کی شرح میں ریکارڈ کمی، جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کےلئے خطرہ، ڈاکٹر معصومہ رضوی

جموں وکشمیر میں مجموعی فرٹیلٹی کی شرح کم ہوکر تقریباً1.4بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے جو کہ متبادل 2.1 فیصد سے کہیں کم ہے۔

بچوں کی پیدائش کی شرح میں ریکارڈ  کمی جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کےلئے خطرہ :ڈاکٹر معصومہ رضوی
بچوں کی پیدائش کی شرح میں ریکارڈ کمی جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کےلئے خطرہ :ڈاکٹر معصومہ رضوی (ETV BHARAT)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 12, 2026 at 5:05 PM IST

|

Updated : June 12, 2026 at 5:13 PM IST

7 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین): جموں وکشمیر میں خواتین میں قوت افزائش یا فرٹیلٹی میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سماجی، معاشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث آئندہ برسوں میں آبادیاتی ڈھانچہ مزید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


جموں و کشمیر میں مجموعی فرٹیلٹی کی شرح کم ہو کر تقریباً 1.4 بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے جو کہ متبادل 2.1 فیصد سے کہیں کم ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً 1.2 فیصد تک جا پہنچی ہے،جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح تقریباً 1.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔

بچوں کی پیدائش کی شرح میں ریکارڈ کمی جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کےلئے خطرہ :ڈاکٹر معصومہ رضوی (etv bharat)


خواتین میں قوت افزائش کی کمی کا رجحان ، مستبقل میں کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اورکیا سماجی، معاشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کے بنیادی وجوہات ہیں یا وجہ کچھ اور ہیں ۔اس پر ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین نے جی ایم سی سرینگر میں شعبہ گائناکالوجی کی پروفیسر اینڈ ہیڈ ڈاکٹر معصومہ رضوی صاحبہ سے خاص بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ فریٹیلی ریٹ کم ہونے کا رجحان آج کی تاریخ میں اچانک سے دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے بلکہ اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب ہم نے " ہم دو ہمارے دو" کے تصور کو اپنانا شروع کیا۔ملک میں بڑھتی آبادی کے پیش نظر 1952 میں فمیلی پلانگ کو متعارف کیا گیا۔ایسے میں تین دہائی کے زائد عرصے میں کئی چیزیں اکٹھا ہوتی ہوتی گئیں اور نتیجتاً آج ہم قوتِ افزائش میں کمی کے سنگین معاملے سے جوجھ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کی اس کے پیچھے خواتین کی قوت ایک وجہ نہیں ہے بلکہ سماجی اور معاشی اور طرز زندگی میں تبدیلی کے عوامل بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔تعلیم روزگار اور مالی خودمختاری کے حصول کے باعث خواتین دیر سے شادی کو ترجیح دے رہی ہیں۔جبکہ معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگی شادیوں کے اخراجات بھی خاندان شروع کرنے میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔



حالیہ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران ملک کی اکثر ریاستوں میں قوت افزائشن یعنی فرٹیلیٹی میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم ملک کی باقی ریاستوں اور یونین ٹریٹریز میں قوت افزائش میں کمی کے زمرے میں جموں وکشمیر کا نام پہلے نمبر پر ہے۔ جموں کشمیر میں فرٹیلٹی ریٹ میں کمی ہونے کے اسباب پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر معصومہ نے کہا کہ تاخیر سے شادی ہونا بھی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔گزشتہ برسوں کے دوران یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر لڑکیوں کی شادی کافی دیر سے ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر سے ایسی خواتین بھی ہیں جو شادی کی عمر کی دہلیز پار بھی کر چکی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حمل کی سب سے صحیح عمر18 سے 28 برس کے درمیان کی ہے۔اس کے بعد خواتین کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ساتھ ہی کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کا فرٹیلیٹی ریٹ دو سے کم آئی ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ مجموعی طور یہاں والدین کے پاس دو سے زیادہ بچے نہیں ہیں۔ ایسے میں اکثر کے پاس ایک یا زیادہ سے زیادہ دو بچے ہیں اور رجحان ایک بچے کی جانب زیادہ ہے۔ تاہم ڈاکٹر صباحت کہتی ہیں کہ نہ صرف خواتین کی دیر سے شادی قوت افزائش کی کمی کا باعث ہے بلکہ کچھ حد تک مردوں کی بھی تاخیر سے شادی اس کی ذمہ دار ہے، البتہ خواتین کے مقابلے میں مرد 70 برس کی عمر تک بھی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلودگی، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند خوراک بھی مردوں میں اسپرم کی تعداد میں کمی کے اسباب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرت کا ایک نظام ہے اور جب انسان قانون قدرت سے کسی صورت چھیڑ چھاڑ یا تغیر تبدل کرتا تھا تو انسان کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔

ڈاکٹر سید معصومہ رضوی کہتی ہے کہ قدرت کا ایک یہ نظام ہے اور جب انسان قانون قدرت سے کسی صورت میں چھیڑ چھاڑ یا تغیر تبدل کرنا چاہتا ہے،تو انسان کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں گزشتہ 30 برسوں میں لوگوں کے رہن سہن اور کھانے پینے کے عادات میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جدید دور کی آرام و آسائش کی چیزیں میسر ہونے سے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی جسمانی مشقت سے کوسوں دور رہتی ہیں جبکہ ڈبہ بند فوڈ یعنی جنک فوڈ کے رجحان نے بھی ایسی بیماریوں کو جنم دے رہے ہیں جو کہ آگے جاکے ایسے تکالیف کا باعث بنتے ہیں جبکہ ہارمونز میں تبدیلیاں رونما ہونے سے بھی عورت میں پھر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

ذہنی تناؤ کو قوت افزائش میں کمی کی اہم وجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد معصومہ رضوی کا کہنا ہے جموں وکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کی شورش کے دوران انزائٹی اور دیگر ذہنی تکالیف میں اضافہ ہو چکا ہے،جس کے چلتے ذہنی دباؤ میں تناؤ میں مبتلا متعدد جوڑے ایسے ہیں جو کہ رشتہ ازدواج کے دوران بھی بچے پیدا نہیں کرپاتے ہیں۔ ڈاکٹر سعد معصومہ کا کہنا ہے قوت افزائش میں کمی ہونے کی صورت میں سماج کے تانے بانے کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے باعث ملک و قوم پر نہ صرف منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے قوم کی شناخت بھی ختم ہوسکتی ہے ۔

وہیں بے روزگاری اور مالی دباؤ نے بھی نوجوان جوڑوں کو محدود خاندان رکھنے پر مجبور کیا ہےجس کے نتیجے میں اکثر خاندان ایک یا دو بچوں تک محدود ہو رہے ہیں۔ماہرین نے یہ بھی کہا کہ شہری طرزِ زندگی اور نیوکلیئر فیملی سسٹم نے روایتی خاندانی سپورٹ سسٹم کو کمزور کیا ہے۔ نتیجتاً بچوں کی پرورش مزید مہنگی اور مشکل ہو گئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ برسوں میں آبادی کی رفتار سست ہونے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں کمی، عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ اور معیشت پر دباؤ جیسے چیلنجز کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کی تعلیم اور صحت میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے۔تاہم تولیدی شرح میں تیز کمی ایک ایسا رجحان ہے جس پر فوری پالیسی سطح پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Last Updated : June 12, 2026 at 5:13 PM IST