ETV Bharat / jammu-and-kashmir

مائیک سے قلم تک: کشمیر کے معروف براڈکاسٹر سید ہمایوں قیصر کی آواز اب کتابوں میں

کشمیر کے معروف براڈکاسٹر سید ہمایوں قیصر اپنی زندگی کے تجربات کو ایک مخصوص انداز میں قلمبند کر رہے ہیں۔

کشمیر کے معروف براڈکاسٹر اور مصنف سید ہمایوں قیصر کے ساتھ خاص گفتگو
کشمیر کے معروف براڈکاسٹر اور مصنف سید ہمایوں قیصر کے ساتھ خاص گفتگو (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : January 3, 2026 at 6:49 PM IST

8 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین): سید ہمایوں قیصر ایک ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے، جو نہ صرف جموں کشمیر کے نامور براڈکاسٹر، کونسلر، ٹیچر اور کریکٹر ہیں، بلکہ ایک مصنف بھی ہیں۔ ان کی کتابوں، حالات زندگی اور کارناموں سے متعلق ای ٹی وی بھارت کے نامہ نگار پرویز الدین نے سید ہمایوں قیصر کے ساتھ خاص بات چیت کی۔

کشمیر کے معروف براڈکاسٹر اور مصنف سید ہمایوں قیصر کے ساتھ خاص گفتگو (ای ٹی وی بھارت)

بحیثیت براڈکاسٹر جس طرح سید ہمایوں قیصر نے اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان بنائی ہے، وہیں انہوں نے بطور مصنف اپنی تحریروں میں بھی پڑھنے والوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ ان کی تحریروں میں اس طرح کی زبان کا استعمال کیا گیا ہے گویا وہ لوگوں سے روبرو بات کر رہے ہوں۔

خود کو پہچاننے کا سفر

’’ڈیفرنٹ سٹروکس‘‘ (Different Strokes) یہ ہمایوں قیصر کی کہانی کہنے کی صلاحیت اور سیلف ڈسکاؤری (Self-discovery) کے سفر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کتاب ان کی زندگی، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ کتاب ایک دلکش یادداشت ہے جو مصنف کی زندگی کے سفر کو چھ حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔

کتاب کا ہر حصہ ہمایوں قیصر کی زندگی کے الگ الگ پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ جو ان کے تجربات پر ایک جامع اور گہری نظر فراہم کرتا ہے۔ کتاب ہمایوں قیصر کی ابتدائی زندگی سے شروع ہوتی ہے، جو قاری کے لیے ان کے ابتدائی برسوں اور ان کی تشکیل کے واقعات کو سمجھنے کی منزلیں طے کرتی ہے۔ پوری کتاب میں ہمایوں قیصر اپنی جدوجہد اور کامیابیوں کا اشتراک کرتے ہوئے، ایک متعلقہ اور متاثر کن داستان پیش کرتے ہیں جو قارئین پر اپنی مضبوط گرفت بنا لیتے ہیں۔ کہانی بے حد متاثر کن ہے جو کہ پوری کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔

ای ٹی وی بھارت کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران ہمایوں قیصر نے کہا: ’’میں نے اس کتاب کی تمحید میں ہی لکھا ہے کہ میں آپ سے بات کروں گا، کیونکہ بطور براڈکاسٹر میں نے عمر بھر لوگوں سے بات ہی کی یے اور ’ڈیفرنٹ سٹروکس‘ کے ذریعے بھی میں نے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

کتاب تحریر کرنے کے حوالہ سے انہوں نے کہا: ’’کتاب لکھنے کا مقصد یہ نہیں تھا میں کون ہوں، کیونکہ اس کتاب میں آپ دیکھیں گے کہ میں نے اپنی تعریف کہیں بھی نہیں کی ہے۔ کتاب لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا میں اپنے بچوں کو بتاؤں کہ آپ کی فیلمی، خاندان، والدین اور آپ کے اسلاف کون ہیں۔ انہوں نے زندگی میں جدوجہد کی ہے، اور آپ کے لیے زندگی کی بہتر راہ کیا ہوسکتی ہے۔‘‘

سید ہمایوں قیصر نے اپنی دوسری کتاب جو کہ ’’براڈکاسٹ میڈیا‘‘ سے متعلق ہے، پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’انڈین ریڈیو براڈکاسٹنگ میں یہ اپنی نوعیت کی ایسی پہلی کتاب‘‘ ہوگی جو کہ چند دنوں میں منظر عام پر آنے والی ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ کسی انڈین آتھر کی پہلی کتاب ہوگی جس میں براڈکاسٹنگ کے ہر پہلو پر بات کی گئی ہے اور براڈکاسٹنگ کے طریقہ کار کو بہتر طور سمجھایا گیا ہے۔ فونو پروگرام سے لیکر دو منٹ کا مختصر انٹریو کرنے تک تمام قوائد وضوابط کو سمجھایا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اس کتاب سے نہ صرف براڈسٹنگ کے میدان میں آنے والے طلباء، پیشہ ور افراد حتیٰ کہ کالجوں اور یونیورسٹی میں پڑھانے والوں کے لیے بھی کارگر اور سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا ’’میں گیسٹ فیکلٹی کے طور پر نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بھی پڑھاتا ہوں، مگر اب تک ’’براڈکاسٹگ میڈیا‘‘ پر اس نوعیت کی کوئی بھی کتاب بازار میں دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے بطور براڈکاسٹر اور ٹیچر ضرورت کو سمجھ کر میں نے اس کتاب کو تحریر کیا ہے۔‘‘

سید ہمایوں قیصر کا مزید کہنا ہے کہ ’’ٹیلی ویژن پر تکنیکی کی کتاب بازار میں تو دستیاب ہے، وہ انڈین اور بیرون مصنفین کی بھی ملے گی لیکن بڑاسٹنگ میڈیا میں ریڈیو پرگرام اور پروڈیکشن تکنیک پر ایسی کوئی بھی کتاب نہیں تھی، جو کہ اسکرپٹ تحریر کرنے سے راست کمنٹری کرنے تک میڈیا طلباء کی رہنمائی کرتی۔ میری یہ کتاب چند دنوں میں منظر عام پر آنے والی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ میڈیا طلباء کی ہر صورت میں رہنمائی کرے گی۔‘‘ 250 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو تحریر کرنے میں انہیں 9ماہ کا عرصہ لگا تاہم ان کے مطابق ’’کتاب کا پہلا باب میں نے گیارہ برس قبل لکھا تھا۔‘‘

ہمایوں قیصر نے ممتاز دہلی اسکول آف اکنامکس سے ایم فل مکمل کرنے کے بعد، اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے انٹرویو میں مسترد ہونے کے بعد یو پی ایس سی امتحان پاس کر کے ریڈیو کشمیر سرینگر میں بطور پروگرام ایگزیکٹیو 31 مئی 1991 تعینات ہوئے۔ جہاں ہمایوں قیصر کا جدت طرازی کا جذبہ ان کے پورے کیریئر میں محرک رہا ہے۔

انہوں نے بطور براڈکاسٹر ریڈیو پروگرامز میں نہ صرف جدت لائی بلکہ کئی نئے پروگرامز بھی متعارف کئے جو کہ لوگوں میں کافی مقبول رہے۔ انہوں نے 31 دسمبر 1996 کو ریڈیو کشمیر سے فون ان پروگرام متعارف کیا جو کہ اس وقت ریاستی نشریات کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس اہم اقدام نے سامعین کو ریڈیو پروگرام کے ساتھ براہ راست جڑنے کا موقع فراہم کیا۔

ا
سید ہمایون قیصر نے ریڈیو براڈکاسٹنگ میں الگ پہنچان بنائی ہے (Special Arrangement)

ہمایوں قیصر نے 2002 میں پہلا لائیو ریڈیو گیم شو - ’’دھڑکن‘‘ شروع کیا۔ اس اہم پروگرام نے ہزاروں طلباء پر مثبت اور گہرا اثر مرتب کیا۔ ’دھڑکن‘ کے اختراعی فارمیٹ اور پرکشش موسیقی اور مواد نے اسے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کا ایک پیارا اور پائیدار حصہ بنایا، جو ہمایون قیصر کے تخلیقی وِژن اور نوجوان ذہنوں کو بااختیار بنانے کی لگن کا ثبوت ہے۔ اور یہ پروگرام کئی نوجوانوں کے مستقبل بنانے میں بھی کارگر اور مثبت ثابت ہوا۔ بطور ڈائریکٹر ریڈیو کشمیر، سرینگر، کئی برس قبل سبکدوش ہونے کے بعد بھی ہمایوں قیصر اور ’’ڈھڑکن‘‘ پروگرام آج بھی عام لوگوں خاص کر نوجوانوں میں زبان زد عام ہے۔

سترہ برس تک ’’دھڑکن‘‘ نے ہندوستان بھر میں لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ اس بے حد مقبول شو نے نہ صرف سامعین کی تفریح کا ذریعہ فراہم کیا بلکہ مقامی نوجوانوں کو سول سروسز میں کیریئر بنانے کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی بھی کی۔ سید ہمیایوں قیصر فخر سے کہتے ہیں کہ اس نے مقامی لوگوں کو اعلیٰ مقصد حاصل کرنے اور قومی سطح کے مسابقتی امتحانات میں کامیاب ہونے کی ترغیب دی، جس سے خطے میں کامیابی کا ایک نیا معیار قائم ہوا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ مختلف جذبوں کو تلاش کرنا ہماری زندگیوں کو تقویت بخشتا ہے اور ہمیں انفرادی طور پر بڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ کرکٹ اور آرٹ دونوں نے میرے سفر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا: ’’میں اپنے علم اور تجربات کو نوجوان نسل کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے ذمہ داری کا گہرا احساس محسوس کرتا ہوں۔ ان کی رہنمائی مجھے ان کی نشوونما میں حصہ ڈالنے اور ان کی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کرنے میں مدد دیتی ہے۔‘‘

سال 1994سے ہمایوں قیصر نے مختلف اداروں اور یونیورسٹیوں میں وزٹنگ فیکلٹی ممبر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

علمی وراثت، ثقافتی برتری کشمیر کی اصل وراثت: براڈ کاسٹرڈاکٹر ستیش ومل