ETV Bharat / jammu-and-kashmir
شوپیان کے کئی سیب باغات میں تباہی، مبینہ ناقص زرعی ادویات پر حکومت حرکت میں آگئی
باغبانوں نےبتایا کہ انہوں نے اپنے باغات میں ایک مخصوص زرعی دوا استعمال کی تھی،جس کےچند دن بعد اچانک پھل گرنےکا سلسلہ شروع ہو گیا


Published : July 4, 2026 at 12:51 PM IST
شوپیاں (شاہد ٹاک): جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں سیب کے باغات میں مبینہ طور پر ایک زرعی دوا کے استعمال کے بعد بڑے پیمانے پر پھل جھڑنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث کئی کاشتکار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ متاثرہ باغبانوں نے الزام لگایا ہے کہ دوا کے چھڑکاؤ کے چند روز بعد سیب درختوں سے تیزی کے ساتھ گرنا شروع ہو گئے، جبکہ درختوں کے پتے بھی جھڑنے لگے اور جو پھل ابھی درختوں پر موجود ہیں وہ بھی خراب ہونے لگے ہیں۔ کاشتکاروں نے اس واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں بلپورہ، کچھڈورہ، سوگو اور دیگر کئی دیہات شامل ہیں، جہاں باغبانوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے باغات میں ایک مخصوص زرعی دوا استعمال کی تھی، جس کے چند دن بعد اچانک پھل گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور باغات کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سیب کی فصل ہی ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اسی سے بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور دیگر ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ متاثرہ باغبانوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے انہیں شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے، حتیٰ کہ بعض افراد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ "بھیک مانگنے پر مجبور" ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے باغات تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔
شوپیان کو نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک اور بیرونِ ممالک میں معیاری، میٹھے اور رسیلے سیبوں کے لیے ایک اہم خطہ مانا جاتا ہے۔ ضلع کی تقریباً 90 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ باغبانی کے شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے اس نوعیت کے واقعات نے مقامی معیشت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ناقص یا مشکوک زرعی ادویات فروخت کرنے میں کسی فرد یا ادارے کا کردار ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسانوں کو اس طرح کے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ادھر جموں و کشمیر کے وزیر برائے زرعی پیداوار (ایگریکلچر پروڈکشن) جاوید احمد ڈار نے بھی تصدیق کی کہ ضلع کے مختلف علاقوں سے سیب گرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جہاں جہاں مشکوک زرعی ادویات کی نشاندہی ہوئی ہے، انہیں ضبط (سیز) کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقاتی رپورٹ موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:اوڑی کے سرحدی علاقوں میں دواؤں اور خوشبودار پودوں کی شجر کاری مہم کا آغاز
وہیں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی جانچ کے دوران بعض زرعی ادویات کی پیکنگ میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جہاں بیرونی پیکنگ پر درج بارکوڈ اور معیادِ استعمال درج تھے،جبکہ دوا کے پیکٹ میں مختلف دوائی پائی گئی۔ انہوں نے ایسے عناصر کو کسانوں کا استحصال کرنے والا قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ملوث افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

