ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں مسلسل ساتویں سال خشک سردی، 65 فیصد کم بارش ریکارڈ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لگاتار خشک سالی سے قدرتی آبپاشی کا نظام حتی کہ زیر زمین پانی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

Published : March 3, 2026 at 5:58 PM IST
سرینگر : جموں و کشمیر میں اس بار بھی سردیاں تقریبا خشک ہی رہیں، یہ لگاتار ساتواں برس ہے کہ جب وادی میں سردیوں کے دوران بارش معمول سے کم رہی۔محکمہ موسمیات سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025سے فروری 2026 تک خطے میں بارش معمول سے 65 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔
ان تین مہینوں کے دوران خطے میں عام طور پر 284.9 ملی میٹر بارش ہونی چاہئے تھی، مگر رواں سیزن صرف 100.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ یوں یہ سیزن بھی حالیہ برسوں کی طرح خشک ترین سردیوں میں سے ایک ثابت ہوا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فروری میں خاص طور پر بارش تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی۔
دسمبر 2025 کی شروعات سے ہی کم بارشیں ہوئیں، اس مہینے صرف 13.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول 59.4 ملی میٹر ہے ، یعنی معمول سے 78 فیصد کمی۔
جنوری 2026 میں مغربی ہواؤں (ویسٹرن ڈسٹربنس) کی کچھ سرگرمی دیکھی گئی، جس سے صورتحال پوری طرح تباہ ہونے سے بچ گئی۔ اس مہینے 73.4 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ معمول 95.1 ملی میٹر ہے ، یعنی 23 فیصد کمی۔ مگر یہ کمی دسمبر کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ فروری ماہ تو گویا پوری طرح روٹھا ہی رہا، صرف 14.2 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ عام طور پر 130.4 ملی میٹر ہوتی ہے جو 89 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے حکام نے فروری کو حالیہ برسوں کے خشک ترین مہینوں میں شمار کیا اور کہا کہ "اس ماہ کی کم بارشوں نے سردیوں کے سیزن میں بارشوں کی کمی کو 65 فیصد تک پہنچایا۔"
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2019-20 کے بعد ہر سردی معمول سے کم بارش کے ساتھ ختم ہوئی ہے۔
گزشتہ سات برسوں کا رجحان واضح اسے تقریت فراہم کرتا ہے۔ سال 2019-20 میں 20 فیصد کمی۔ 2020-21 میں 37 فیصد۔ 2021-22 میں 8 فیصد۔ 2022-23 میں 34 فیصد۔ 2023-24 میں 54 فیصد۔ 2024-25 میں 45 فیصد اور اب 2025-26 میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حالیہ برسوں میں صرف 2021-22 کی سردی کسی حد تک معمول کے قریب تھی، جہاں صرف 8 فیصد کمی رہی۔
اس کے برعکس اس سے پہلے کچھ برسوں میں بارش معمول سے زیادہ بھی ریاکارٹ ہوئی تھی۔ 2016-17 میں 29 فیصد زائد، 2018-19 میں 36 فیصد زائد اور 2012-13 میں 14 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد مسلسل کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ محض اتفاقی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک واضح اور اعلانیہ رجحان ہے۔
ماہرین نے کیا خبردار
سرینگر محکمہ موسمیات آفس کے ایک سینئر افسر نے کہا: "سات سال مسلسل کمی یہ بتاتی ہے کہ یہ صرف معمول کی تبدیلی نہیں بلکہ بارش کے نظام میں مستقل تبدیلی کا اشارہ ہے۔ مغربی ہواؤں کی شدت اور تعداد میں فرق، بارش کے مختصر ادوار اور طویل خشک دورانیے اس کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔"
ہمالیائی خطے کے لیے سردیوں کی برف اور بارش نہایت اہم ہوتی ہے۔ بالائی علاقوں میں جمع ہونے والی برف دریاؤں اور چشموں کو پانی فراہم کرتی ہے، زیرِ زمین پانی کو متوازن رکھنے میں مدد کرتی ہے، باغات اور فصلوں کی آبپاشی کا سہارا بنتی ہے اور برف کی سفیدی موسم کے درجہ حرارت کو بھی متوازن رکھتی ہے۔
اس بار دسمبر تقریباً خشک رہا، جنوری میں بھی خاص بارشیں نہیں ہوئیں، اور فروری تقریباً 90 فیصد کمی کے ساتھ ختم ہوا، جس سے برف جمع ہونے کا پورا دور کمزور پڑ گیا۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ "اگر مسلسل سردیاں ایسی ہی خشک رہیں تو وادی کو بہار، گرمیوں اور خزاں میں قدرتی طور برف و گلیشیر سے پگھلتے پانی پر انحصار رہتا ہے وہ نظام کافی حد تک متاثر ہو سکتا ہے۔"
سرینگر کے ماہر ڈاکٹر ریاض احمد کہتے ہیں: “برف دراصل ہمارا قدرتی ذخیرہ آب ہے۔ اگر اسی طرح کمی جاری رہی تو دریاؤں کا بہاؤ اور زیرِ زمین پانی دونوں متاثر ہوں گے، خاص طور پر آبپاشی کے اہم موسم میں۔"
باغبانوں کی تشویش
جنوبی کشمیر کے سیب کاشتکاروں اور باغ مالکان نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مٹی میں نمی کی کمی اور برف کی حفاظتی تہہ نہ ہونے سے شگوفے کھلنے کے عمل اور ابتدائی فصل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بارش کی کمی صرف ایک دو علاقوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ کشمیر اور جموں دونوں صوبے متاثر ہوئے۔
کشمیر ڈویژن میں سرینگر میں 236.5 ملی میٹر کے بجائے صرف 84.2 ملی میٹر بارش ہوئی یعنی 64 فیصد کمی۔ اننت ناگ میں 62 فیصد، بڈگام میں 71 فیصد، بانڈی پورہ میں 60 فیصد، بارہمولہ میں 58 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
کولگام میں 80 فیصد اور شوپیان میں 82 فیصد کمی ہوئی۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں 64 فیصد اور پلوامہ میں 51 فیصد کمی رہی۔ وسطی کشمیر کا گاندربل ضلع نسبتاً بہتر رہا، مگر وہاں بھی 39 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جموں ڈویژن میں بھی کمی
جموں ضلع میں 64 فیصد کمی ریکارٹ کی گئی جبکہ کٹھوعہ میں 66 فیصد، رام بن میں 62 فیصد کمی رہی۔ ادھم پور میں 57 فیصد اور ریاسی میں 56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
چناب خطے کا کشتواڑ سب سے زیادہ متاثر ضلع رہا جہاں معمول کے 369.9 ملی میٹر کے بجائے صرف 36.0 ملی میٹر بارش ہوئی یعنی 90 فیصد کمی۔ ڈوڈہ میں 49 فیصد کمی رہی۔
پیر پنچال میں بھی حال یہی رہا، پونچھ میں 21 فیصد کمی، سانبہ میں 28 فیصد اور راجوری میں 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ موسمی خشک سالی ایک سنجیدہ رجحان بنتی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق 3 سے 6 مارچ تک مطلع جزوی طور ابر آلود رہے گا اور 4 مارچ کو بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری ہو سکتی ہے۔ 7 سے 9 مارچ تک مطلع زیادہ تر ابر آلود رہے گا اور چند مقامات پر ہلکی بارش اور برف باری کا امکان ہے۔
10 اور 11 مارچ کو بھی ایسا ہی موسم متوقع ہے، جبکہ 12 سے 14 مارچ تک موسم عام طور پر خشک رہے گا۔ 15 اور 16 مارچ کو پھر بادل چھائے رہنے کی توقع ہے۔
کسانوں کے لیے ایڈوائزری
محکمہ نے کسانوں کو کھیتی باڑی کے معمول کے کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اگلے چار دنوں میں دن کا درجہ حرارت 1 سے 2 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے، جس کے بعد کئی مقامات پر 2 سے 4 ڈگری تک کمی آ سکتی ہے۔
جموں و کشمیر میں بہار کی آمد کے اس مرحلے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش کے رجحان پر قریبی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔
محکمہ موسمیات کے افسر کے مطابق: "اگر آنے والے برسوں میں اسی طرح کی خشکی برقرار رہی تو پانی کے انتظام اور زراعت کے لیے سنجیدہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ سردیوں کی بارش ہمارا بنیادی سہارا ہے، اس کی مسلسل کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔"
یہ بھی پڑھیں:

