ETV Bharat / jammu-and-kashmir
نائب صدر کشمیر وارد، سیکورٹی انتظامات سخت، ٹریفک کی نقل و حمل محدود
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کشمیر یونیورسٹی کے اکیسویں کنووکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 25, 2026 at 1:57 PM IST
|Updated : February 25, 2026 at 8:17 PM IST
سرینگر: نائب صدر ہند کی کشمیر آمد کے پیش نظر سرینگر میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں خاص کر کشمیر یونیورسٹی جانے والے سبھی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نائب صدر سی پی رادھا کرشنن آج دوپہر سرینگر پہنچے، جہاں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، چیف سکریٹری اتل ڈلو، سری نگر میں واقع فوج کی 15 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) اور جے اینڈ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نے نائب صدر کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔

نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کنووکیشن کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے۔ گزشتہ برس جگدیپ دھنکر کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے والے رادھا کرشنن کا یہ کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔
تقریب میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو سمیت متعدد شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

سکیورٹی مزید سخت
نائب صدر کے دورے کے پیش نظر جموں کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کو سرینگر شہر اور کشمیر یونیورسٹی جانے والی تمام راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق سرینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حضرت بل میں واقع یونیورسٹی کیمپس تک خصوصی حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے اطراف میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور کلاس ورک تین دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے تاکہ تقریب کے انتظامات بخوبی مکمل کیے جا سکیں۔
ساٹھ ہزار طلبہ
کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے کنووکیشن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ’’تقریباً 60 ہزار طلبہ کو ڈگریاں دی جائیں گی۔‘‘ ان میں انڈرگریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک کے طلبہ شامل ہیں، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو گولڈ میڈلز اور امتیازی اسناد سے بھی نوازا جائے گا۔ نیلوفر کے مطابق نائب صدر کے ہاتھوں ڈگری وصول کرنے کے حوالے سے طلبہ میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

نائب صدر کے دورے سے قبل 20 فروری کو انسپکٹر جنرل پولیس، کشمیر، وی کے بردی کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا سیکورٹی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پولیس، فوج، سی آر پی ایف، آئی ٹی بی پی، بی ایس ایف، سی آئی ڈی اور دیگر سکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ممکنہ دہشت گرد خطرات سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے، حساس مقامات کی حفاظت مضبوط بنانے اور انٹیلی جنس نظام کو مزید فعال بنانے پر زور دیا گیا۔
ٹریفک پابندیاں نافذ
سرینگر ٹریفک پولیس نے جمعرات کو گپکار - نشاط روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ یہ وہی راستہ ہے جو لوک بھون کی جانب جاتا ہے جہاں نائب صدر قیام کریں گے۔
پولیس کے مطابق گپکار سے نشاط اور شالیمار اور ہارون جانے والا ٹریفک بند رہے گا، جبکہ رام منشی باغ سے گرینڈ پیلس تک بھی نقل و حرکت محدود رہے گی۔ متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا ہے اور طبی ایمرجنسی کی صورت میں تصدیق کے بعد ہی اجازت دی جائے گی۔ ٹریفک حکام نے شہریوں، مسافروں کو سفر سے قبل ٹریفک ہدایات کو مدنظر رکھ کر محدود راستوں سے ہی سفر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

