ETV Bharat / jammu-and-kashmir

سمگر شکشا کے تحت شائع شدہ کتابوں میں متنازع مواد ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول: سکینہ ایتو

ریاستی وزیر تعلیم سکینہ اِتو نے بعض کتابوں میں متنازع کے خلاف سخت نوٹس لیتے ہوئے وقت بند انکوائری کا حکم جاری کیا ہے۔

جموں و کشمیر کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو
جموں و کشمیر کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 5, 2026 at 7:08 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ (فیاض احمد لولو) جموں و کشمیر کی وزیر برائے تعلیم سکینہ اِتو نے سمگر شکشا کے تحت شائع ہونے والی بعض کتابوں میں پائے گئے متنازع اور قابلِ اعتراض مواد کے خلاف سخت نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی وقت بند انکوائری کا حکم جاری کیا ہے۔ وزیر موصوفہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس نوعیت کا مواد کسی بھی صورت میں ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول ہے، اور تعلیمی نظام میں ایسی کسی بھی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

جموں و کشمیر کی کابینہ وزیر سکینہ ایتو کا بیان (ETV Bharat)

سکینہ اِتو نے کہا کہ تعلیمی ادارے اور نصابی مواد بچوں کی فکری، اخلاقی اور علمی تربیت کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں، اس لیے ان میں شامل ہر لفظ، ہر سبق اور ہر حوالہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ تیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر ایسی کتابیں شائع ہوئیں جن میں متنازع، گمراہ کن یا غیر مناسب مواد شامل ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے، جس پر فوری اور شفاف کارروائی ناگزیر ہے۔


وزیر تعلیم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس پورے معاملے کی جامع، غیر جانبدار اور وقت بند انکوائری کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ مواد کس مرحلے پر شامل ہوا، اس کی منظوری کس نے دی، اور اس کے پیچھے کون سے افراد یا ادارے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی بھی ذمہ دار شخص کو ہرگز نہیں بخشا جائے گا۔


سکینہ اِتو نے مزید کہا کہ حکومت بچوں کے مستقبل، تعلیمی معیار اور نصابی شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی مواد کی تیاری، جانچ اور اشاعت کے تمام مراحل میں مکمل احتیاط، پیشہ ورانہ دیانت اور ادارہ جاتی جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

متعلقہ خبر: سید گیلانی سمیت کئی علیحدگی پسند لیڈر سمگر شکشا کی کتاب 'جموں کشمیر کی شخصیات' میں شامل


انہوں نے کہا کہ سمگر شکشا جیسے اہم تعلیمی پروگرام کا مقصد بچوں کو معیاری، متوازن اور مثبت تعلیم فراہم کرنا ہے، لہٰذا اس کے تحت شائع ہونے والے مواد میں کسی بھی قسم کی غلطی یا متنازع شمولیت نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ وزیر تعلیم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایسے معاملات میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔


سکینہ اِتو نے یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے کو پوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہی ہے اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، احتساب اور معیار تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، اور ان اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


وزیر تعلیم نے متعلقہ محکموں کو یہ بھی ہدایت دی کہ آئندہ نصابی مواد کی تیاری اور منظوری کے عمل کو مزید مضبوط، محتاط اور مؤثر بنایا جائے تاکہ طلبہ کو صرف درست، معیاری اور تعلیمی لحاظ سے موزوں مواد ہی فراہم کیا جا سکے۔


انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر اس اقدام کے خلاف سخت موقف اختیار کرے گی جو تعلیمی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور بچوں کے ذہنی و فکری ارتقا کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ ان کے مطابق، اس معاملے میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ذمہ داران کو ان کے کیے کی پوری قیمت چکانی پڑے گی۔

مزید پڑھیں: سمگر شکشا کتاب تنازع: ایل جی انتظامیہ نے آٹھ ملازمین کو کیا معطل، انکوائری کا حکم