ETV Bharat / jammu-and-kashmir
خارپشت کی دہشت سے زعفران صنعت خطرے میں، کسانوں کا محکمہ زراعت پر لاپرواہی کا الزام
کشمیر اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ زعفران کیلئے بھی مقبول ہے، لیکن ایک جانورخارپشت زعفران کی فصل کو تباہ کرہا ہے۔

Published : December 19, 2025 at 4:49 PM IST
پلوامہ: کشمیر کی روایتی اور عالمی شہرت یافتہ زعفران صنعت کو ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں نے شدید متاثر کیا ہے، وہیں اب ایک جنگلی جانور خارپشت (porcupine) نے اس صنعت کے لیے نیا خطرہ کھڑا کر دیا ہے۔ زعفران کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین برسوں سے خارپشت کھیتوں میں داخل ہو کر زعفران کے بیجوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کے باعث پیداوار میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
کاشتکاروں کے مطابق خارپشت زعفران کے ان بیجوں کو کھاتا ہے جن پر اگلے سال مہنگے اور نایاب زعفرانی پھول کھلتے ہیں۔ اس وجہ سے متاثرہ کھیتوں میں نہ صرف موجودہ سیزن کی پیداوار گھٹ رہی ہے بلکہ آئندہ برسوں کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
زعفران کے کھیتوں کے قریب رہنے والے کئی کسانوں نے بتایا کہ خارپشت عام طور پر جنگلات میں پایا جاتا تھا لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ انسانی بستیوں اور کھیتوں میں داخل ہونے لگا ہے، جہاں یہ بادام کے درختوں، سبزیوں اور اب زعفران کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا محکمہ زراعت اور سرکار سے اس مسئلے کی شکایت کی، لیکن اب تک نہ کسی قسم کا حفاظتی انتظام کیا گیا اور نہ ہی خارپشت کو قابو کرنے کے لیے کوئی مؤثر کاروائی کی گئی ہے۔
“پچھلے چار سال سے زعفران کی پیداوار کم ہو رہی ہے؛ پہلے موسمیاتی تبدیلی نے نقصان پہنچایا، پھر زعفران مشن کی ناکامی نے حالات خراب کیے، اور اب خارپشت نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ لیکن محکمے کی خاموشی سمجھ سے باہر ہے۔”
واضح رہے کہ حکومت نے زعفران مشن کے تحت زعفران کی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے، لیکن کاشتکاروں کا الزام ہے کہ مشن کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ بہتر آبپاشی، جدید ٹیکنالوجی اور زمین کی بحالی جیسے وعدے آج تک مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
زعفران کاشتکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے بارشوں کی کمی، غیر معمولی درجہ حرارت اور بدلتے موسمی حالات نے زعفران کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ اب جب کہ موسمیاتی خطرات کم نہ ہوئے تھے، خارپشت کی یلغار نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
زعفران کاشتکاروں نے حکومت اور محکمہ زراعت سے مطالبہ کیا ہے کہ خارپشت کو قابو کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں،کھیتوں کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں،زعفران مشن کی تکمیل اور اس کے وعدوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے اور کسانوں کو زمین کی بحالی اور تحفظ کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ کسانوں کو نقصانات سے بچایا جا سکے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کی صدیوں پر محیط زعفران صنعت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

