ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج محمد اشرف ملک کو سمادھان سماروہ 2026 میں نمایاں خدمات پر اعزاز

تعریفی سند جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سنجیو کمار نے پیش کیا۔

ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج محمد اشرف ملک کو سمدھان سماروہ 2026 میں نمایاں خدمات پر اعزاز
ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج محمد اشرف ملک کو سمدھان سماروہ 2026 میں نمایاں خدمات پر اعزاز (ETV BHARAT)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : August 22, 2026 at 8:30 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ(میر اشفاق): جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج محمد اشرف ملک کو ’’سمادھان سماروہ 2026‘‘ کے کامیاب انعقاد میں قابلِ قدر تعاون، فعال شرکت اور قابلِ ستائش خدمات کے اعتراف میں تعریفی سند سے نوازا گیا۔

تعریفی سند جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سنجیو کمار نے پیش کی۔ اس موقع پر جسٹس سنجے دھر، جسٹس راہل بھارتی، جسٹس محمد یوسف وانی اور جسٹس شہزاد عظیم بھی موجود تھے۔


محمد اشرف ملک کو یہ اعزاز سپریم کورٹ کے ’’سمدھان سماروہ‘‘ اقدام کے تحت پری لوک عدالت اور متبادل تنازعاتی حل کے عمل میں ان کی فعال وابستگی اور اہم کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد فریقین کو ثالثی، مفاہمت اور دیگر دوستانہ طریقہ کار کے ذریعے اپنے تنازعات باہمی رضامندی سے حل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔


تعریفی سند میں محمد اشرف ملک کے ’قابلِ قدر تعاون، شرکت اور قابلِ ستائش کوششوں کو سراہتے ہوئے ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل اور پرامن و خوشگوار تصفیے کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں ان کے کردار کا اعتراف کیا گیا۔


سمدھان سماروہ جیسے اقدامات کا مقصد طویل عرصے تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائیوں کو کم کرنا اور فریقین کو تیز رفتار، مؤثر اور باہمی رضامندی پر مبنی تصفیہ فراہم کرنا ہے۔ متبادل تنازعاتی حل، ثالثی اور مفاہمت کے ذریعے نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی کو بھی مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔


محمد اشرف ملک کی یہ پذیرائی اس اعتبار سے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے کہ تجربہ کار عدالتی افسران عدالتی نظام میں تصفیہ، مکالمے، مفاہمت اور باہمی اتفاقِ رائے کے کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی یہ تعریفی سند ان کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جو فریقین کو روایتی عدالتی عمل کے علاوہ متبادل ذرائع سے اپنے تنازعات حل کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات عدالتی نظام کو زیادہ قابلِ رسائی، مؤثر، تیز رفتار اور تصفیہ پر مبنی بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کنگن میں نالہ سندھ میں نہاتے ہوئے 18 سالہ نوجوان ڈوب گیا


قانون دانوں کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد محمد اشرف ملک کو دیا گیا یہ اعزاز انصاف، ثالثی اور پرامن تنازعاتی حل کے اصولوں کے لیے ان کی مسلسل وابستگی اور خدمات کا اعتراف بھی ہے۔