ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی حق، "دہلی چلو" مارچ فیصلہ کن ہوگا: سریندر چودھری

سریندر چودھری نے عوام سے کہاکہ وہ جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جاری تحریک میں بھرپور شرکت کریں۔

ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی حق، "دہلی چلو" مارچ فیصلہ کن ہوگا: سریندر چودھری
ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا آئینی حق، "دہلی چلو" مارچ فیصلہ کن ہوگا: سریندر چودھری (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 8, 2026 at 8:24 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں : جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا سب سے بڑا آئینی مطالبہ بن چکی ہے اور 20 جولائی کو مجوزہ "دہلی چلو" احتجاجی مارچ مرکزی حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دلانے کے لیے ایک فیصلہ کن اقدام ثابت ہوگا۔

بدھ کے روز ادھم پور اور کٹرا میں منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یقین دہانیوں کا وقت گزر چکا ہے اور اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جاری تحریک میں بھرپور شرکت کریں۔

سریندر چودھری نے کہا کہ مرکزی حکومت مسلسل "مناسب وقت" کا حوالہ دے کر ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کر رہی ہے، حالانکہ حد بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور 2024 کے اسمبلی انتخابات بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ہند کی جانب سے بیان کی گئی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے اس تاخیر کو غیر جمہوری اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر جیسے تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے منفرد خطے کو محدود اختیارات والی یونین ٹیریٹری کے طور پر مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ایسی منتخب حکومت درکار ہے جس کے پاس حقیقی انتظامی اور آئینی اختیارات ہوں، نہ کہ صرف عہدے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں اے آئی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک پر غور و خوض جاری: مرکزی حکومت

نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کی عدم بحالی سے وفاقی نظام کی روح متاثر ہوئی ہے اور عوام کو مختلف انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجہ کسی پر احسان نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام سے کیا گیا ایک سنجیدہ آئینی وعدہ ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔