ETV Bharat / jammu-and-kashmir
ڈورو میں نالہ سندران پر پل کے ساتھ فٹ پاتھ کا مطالبہ، ایک کروڑ سے زائد لاگت والے اوور ہیڈ پل کی افادیت پر سوالات
مقامی لوگوں کے مطابق موجودہ پل محدود گنجائش کا حامل ہے اور اس پر گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت کے درمیان پیدل چلنا غیر محفوظ ہے

Published : September 2, 2026 at 3:27 PM IST
اننت ناگ(رؤف احمد وانی): اننت ناگ ویری ناگ شاہراہ پر ڈسٹرکٹ اسپتال ڈورو کے قریب نالہ سندران پر قائم پل روزانہ ہزاروں مریضوں، تیمارداروں، طلبہ، ملازمین اور عام مسافروں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم پل پر پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب فٹ پاتھ نہ ہونے کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات اور ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق موجودہ پل محدود گنجائش کا حامل ہے اور اس پر گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت کے درمیان پیدل چلنے والوں کے لیے الگ اور محفوظ راستہ موجود نہیں۔ خاص طور پر اسپتال جانے والے مریضوں، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معذور افراد کو پل عبور کرتے وقت دشواری پیش آتی ہے۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ موجودہ پل کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ اس کے ایک جانب مناسب فٹ پاتھ یا الگ فٹ برج تعمیر کیا جائے، تاکہ پیدل چلنے والوں کو ٹریفک سے محفوظ راستہ فراہم ہو سکے۔
مقامی شہریوں نے محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) کی جانب سے ایک کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اوور ہیڈ پل کی افادیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کیے جانے کے باوجود پیدل چلنے والوں کا بنیادی مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو عوام کی حقیقی ضروریات اور زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیح دی جانی چاہیے، ان کے مطابق موجودہ پل کے ساتھ ایک محفوظ فٹ پاتھ تعمیر ہونے سے روزانہ اسپتال آنے والے ہزاروں مریضوں اور عام شہریوں کو براہِ راست سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
مقامی لوگوں نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری طور پر جائزہ لے کر موجودہ پل کے ساتھ ایک محفوظ فٹ پاتھ یا فٹ برج تعمیر کیا جائے، تاکہ پیدل چلنے والوں کو درپیش مشکلات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
دریں اثنا، اس معاملے پر محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) کے متعلقہ افسران سے مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی متعلقہ افسر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکا۔ محکمہ کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔

