ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تعلیمی اداروں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا افسوسناک، یونیورسٹی آف جموں کے ماہرین تعلیم کا ردِعمل
شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کا قیام 1999 میں جموں و کشمیر اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد عمل میں آیا تھا۔

Published : January 9, 2026 at 6:26 PM IST
جموں: (محمد اشرف گنائی) نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس، کاکریال میں ایم بی بی ایس کورس (50 نشستیں) کے لیے تعلیمی سال 2025-26 کا لیٹر آف پرمیشن واپس لینے کے فیصلے کے ساتھ ہی میڈیکل کالج میں داخلوں کا عمل منسوخ ہو گیا، جس سے بالخصوص کشمیر سے تعلق رکھنے والے 42 ایسے طلبہ متاثر ہوئے جنہوں نے نیٹ (انڈر گریجویٹ) امتحان کامیابی سے پاس کیا تھا۔
این ایم سی کے مطابق، چند روز قبل ادارے میں کی گئی اچانک جانچ کے دوران کم از کم معیارات کی عدم تعمیل سے متعلق منفی نکات سامنے آئے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، شری ویشنو دیوی سنگرش سمیتی، جو مسلم طلبہ کے داخلے کی مخالفت کر رہی تھی، نے اس فیصلے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز جموں میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور اونچی آواز میں موسیقی بجا کر جشن منایا۔
جموں یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم نے تعلیمی اداروں کو مذہب کی بنیاد پر پولرائز کرنے اور میڈیکل کالج کی بندش پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف جموں کے انسٹی ٹیوٹ آف میوزک اینڈ فائن آرٹس (آئی ایم ایف اے) کے پرنسپل اور شعبہ اردو کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شوہب عنایت ملک نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی پولرائزیشن انتہائی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا میڈیکل کالج کا قیام کسی بھی خطے کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوتا ہے۔ لوگ برسوں سے میڈیکل کالج کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، مگر یہاں تعلیمی اداروں پر ہندو-مسلم سیاست کی جا رہی ہے جو سماج کے لیے نقصان دہ ہے۔
پروفیسر سوہب عنایت ملک نے مزید کہا کہ یہ میڈیکل کالج جموں اور کٹرہ کے لیے ایک ترقیاتی قدم تھا، مگر اس کے منسوخ ہونے سے ترقی کا ایک پورا دور رک گیا ہے۔ چند تنظیموں کی جانب سے کالج کی بندش پر جشن منانے کے بارے میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ایسے لوگوں پر ہنسنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا، یہ ان کی نادانی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسی طرح جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چمن لال بگت نے کہا کہ تعلیم ہر ایک شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “تعلیم روشنی ہے، ترقی ہے اور انسان کی سوچ کو جِلا بخشتی ہے۔ جن طلبہ نے نیٹ جیسے قومی سطح کے امتحان میں کامیابی حاصل کی، انہیں داخلہ ملا تھا، ایسے میں ادارے کی بندش منفی سوچ کا مظہر ہے جو نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ترقی کے لیے بہتر۔”
ڈاکٹر چمن لال بگت نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ادارے ملک بھر کے طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی۔
آپ کو بتادیں کہ نومبر 2025 میں جموں کی مختلف ہندو تنظیموں نے مشترکہ طور پر شری ویشنو دیوی سنگرش سمیتی کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا تھا۔ اس سمیتی کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ شری ماتا ویشنو دیوی مندر کے عقیدت مندوں کے عطیات سے چلنے والے میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کو داخلہ نہ دیا جائے۔ جیسے ہی نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے 42 مسلم طلبہ، جن کا تعلق کشمیر سے تھا، کو ایم بی بی ایس میں داخلہ دیا گیا، سمیتی نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔سمیتی کے اراکین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے کٹرہ اور جموں میں مظاہرے کیے، نعرے بازی کی اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کا قیام 1999 میں جموں و کشمیر اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد عمل میں آیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے مالی امداد اور جموں کے کٹرہ علاقے میں تقریباً 80 کنال ریاستی اراضی فراہم کی گئی تاکہ یہ ادارہ تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دے سکے۔ موجودہ تنازعہ نے ایک بار پھر خطے میں تعلیم اور ترقی کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

