ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'رحمۃ للعالمین، حضورِانور سرورِ کونین حضرت محمدؐ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے بھیجا گیا'
اجتماعات منعقد ہونے کے بعد میں موئے مقدس کے دیدار سے وادی کےاطراف واکناف سے آئے ہوئے عقید مندوں کی کثیر تعداد فیضاب ہوں گے۔

Published : August 25, 2026 at 6:40 PM IST
سرینگر: (پرویز الدین) ربیع الاول شریف آتے ہی گلیاں سجنے لگتی ہیں، مساجد میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، محافلِ نعت منعقد ہوتی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے ہیں۔ یہ محبت اور عقیدت کا موسم ہے۔
عالم دین مولانا سید رحمان شمس کہتے ہیں کہ ماہ ِربیع الاوّل امت ِمسلمہ کے لیے خاص اہمیت کا حامل مہینہ ہے کیونکہ اس مہینے نبی آخرالزماں ؐ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی جو انسانِ کامل اور وجہِ تخلیق ِکائنات ہیں،ربیع الاوّل امت ِمسلمہ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں حضورِانور سرورِ کونین حضرت محمدؐ کو دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کے لئے بھیجا گیا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری دنیا کے لئے نمونہ بن کر آئے، وہ ہر شعبے میں اس اوجِ کمال پر فائز ہیں کہ ان جیسا کوئی تھا اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ ان سب کے لئے رحمت اس طور پر ہیں کہ دنیا میں قیامت تک اللہ تعالیٰ کا ذکر وتسبیح اور اس کی عبادت وبندگی آپ ﷺکے دم سے قائم اور آپ کی تعلیمات کی برکت سے جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین پر کوئی بھی اللہ اللہ کہنے والا نہیں رہے گا تو قیامت آ جائے گی۔ تفسیر ابن کثیر میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے کہ’’میں اللہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں‘‘۔
باقی انسانوں کے لئے رحمت ہونا اس طور پر ہے کہ آپ نے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا،گمراہی سے بچایا، کفر وشرک کے اندھیروں سے ،ایمان و توحید کے اجالے کی طرف رہنمائی فرمائی ۔۳۶۰بتوں کے سامنے اپنی پیشانی ٹیکنے اور اپنی حاجتوں کے لئے انہیں پکارنے کے بجائے صرف ایک خالق و مالک کی بندگی کی طرف بلایا۔لوگوں کو جہنم کی آگ میں جانے سے انہیں پکڑ پکڑ کر روکا۔
حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی. مسلمان تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں، خالق ِکائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا۔ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعات کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ادھر پیغبر آخرالزماں ﷺ کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی میلاد النبی ﷺکی تقریبات انتہائی عقیدت و احترام اور تزک واحتشام کے ساتھ منائی جارہی ہے اس حوالے سے وادی میں سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہونے جارہی ہے ۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کررہے ہیں۔ روح پرور اور بابرکت اجتماعات منعقد ہونے کے بعد میں موئے مقدس کے دیدار سے وادی کے اطراف واکناف سے آئے ہوئے عقید مندوں کی کثیر تعداد فیضاب ہوں گے۔
ولادت باسعادت ﷺ کے سلسلے میں درگارہ حضرت بل کے علاوہ وادی کی دیگر مساجد،خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں شب خوانی مجالس کا اہتمام کیا گیا ۔ وہیں گزشتہ کئی دنوں سے وادی کی کئی مساجد میں نماز مغرب سے نماز عشاء شام تک درودازکار کی محفلیں آراستہ ہورہی ہیں ۔اس موقع پر آقائے نامدارحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں درودوسلام کی صدائیں بلند ہوتی رہے گی ۔جبکہ علمائے کرام ،واعظ وخطیب اور ائمہ مساجد نے آنحضور ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی۔
ادھر درگاہ حضرت بل میں میلاد النبی ﷺکی تقریب سعد کے موقعہ پر ضلع انتظامیہ سرینگر نے مختلف سرکاری اداروں اور چند رضاکارانہ انجیمنوں کے اشتراک سے زائرین کو ہر ممکن سہولیات بہم رکھنے کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔شہرو دیہات سے درگاہ حضرت بل آنے والے عقیدت مندوں کی سہولت کے لئے ٹریفک کے معقول انتظامات بھی کئے گئے ہی. جبکہ ٹریفک جام سے بچنے کے لئے پہلے ہی روٹ پلان ٹریفک پولیس نے مرتب دیا تھا۔ تاکہ زائرین کو پارکنگ یا ٹریفک جام کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرناہوئیں۔

