ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پلوامہ میں سرکاری زمین واپسی معاملہ: عام آدمی پارٹی کسانوں کے حقوق کےلیے قانونی جنگ لڑے گی

پلوامہ کے پدگام پورہ، وندک پورہ، لرکی پورہ اور گوری پورہ میں سینکڑوں کنال سرکاری زمین کی واپسی کےلیے انتظامیہ نے کارروائی شروع کردی ہے۔

پلوامہ میں سرکاری زمین واپسی معاملہ: عام آدمی پارٹی کسانوں کے حقوق کےلیے قانونی جنگ لڑے گی
پلوامہ میں سرکاری زمین واپسی معاملہ: عام آدمی پارٹی کسانوں کے حقوق کےلیے قانونی جنگ لڑے گی (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 12, 2026 at 7:12 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

پلوامہ : جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سرکاری زمین کی واپسی کا معاملہ گزشتہ کئی دنوں سے موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جس پر مقامی کسانوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ متاثرہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ زمینیں واپس لی گئیں تو اس وجہ سے ان کا واحد ذریعۂ معاش چھن جائے گا اور سینکڑوں خاندان معاشی بحران کا شکار ہو جائیں گے جس سے ان کی زندگی بری طرح سے متاثر ہو سکتی ہے۔

پلوامہ میں سرکاری زمین واپسی معاملہ: عام آدمی پارٹی کسانوں کے حقوق کےلیے قانونی جنگ لڑے گی (ETV Bharat)

مقامی لوگوں کے مطابق ضلع پلوامہ کے پدگام پورہ، وندک پورہ، لرکی پورہ اور گوری پورہ علاقوں میں سینکڑوں کنال سرکاری زمین کی واپسی کے لیے انتظامیہ نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ انتظامیہ نے کسانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان زمینوں پر دھان کی پنیری نہ لگائیں، حالانکہ یہی زمینیں کئی دہائیوں سے ان کی آمدنی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ رہی ہیں۔ زمین اور مقامی آبادی کے روزگار کے تحفظ کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

پابندیوں کے باوجود رہنماؤں نے کسانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کھیتوں میں جا کر دھان کی پنیری لگاٸی اور کسانوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سلسلے میں أج "عام أدمی پارٹی" کی پلوامہ ٹیم، پارٹی ترجمان مدثر حسن کی قیادت میں، قانونی مشاورتی اور جے کے این ڈی پی کے ارکان کے ہمراہ متاثرہ علاقوں میں پہنچی۔ وفد نے کسانوں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی زمینوں اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ترجمان مدثر حسن نے کہا کہ یہ زمین مقامی لوگوں کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے اور اس کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ
“یہ لوگ مکمل طور پر زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم کسانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی و جمہوری راستہ اختیار کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی قانونی ٹیم کسانوں کے حقوق کے لیے بھرپور قانونی جنگ لڑے گی اور زمین کا ایک انچ بھی واپس لینے نہیں دیا جائے گا۔

کسانوں کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ جاوید احمد نے کہا کہ کسان اس زمین پر غیر قانونی قابض نہیں بلکہ انہیں سابقہ حکومت کی جانب سے یہ زمین کاشتکاری اور روزگار کے لیے دی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں گے اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عمان کے ساحل پر بھارتی ملاحوں کی ہلاکت، بھارت کا امریکہ سے سخت احتجاج، امریکی سفارت کار طلب

ایڈووکیٹ جاوید احمد نے مزید کہا کہ عمر عبدللہ کی قیادت والی حکومت چاہے تو ایک قلم کی جنبش سے اس مسئلے کا مستقل حل نکال سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے کو محض زمین کے تنازعے کے طور پر نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے روزگار اور مستقبل کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔