ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ

حکام کے مطابق بعض علاقوں میں احتیاطی طور پر انٹرنیٹ سروس بھی سست کر دی گئی۔ دکانیں اور بازار کئی مقامات پر بند رہے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے
جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : March 1, 2026 at 6:12 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے تصدیق کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ سری نگر سے لے کر رامبن، اننت ناگ اور بانڈی پورہ تک ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، سوگ منایا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔ انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے کئی احتیاطی اقدامات بھی کیے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ
جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (PTI)

سری نگر: لال چوک میں بڑا اجتماع، انٹرنیٹ سست

گرمیوں کے دارالحکومت سری نگر میں گھنٹہ گھر لال چوک پر سینکڑوں افراد جمع ہوئے اور خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا۔ پولیس چیف نالن پربھات اور آئی جی پی کشمیر زون وی کے بردی نے خود سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔

حکام کے مطابق بعض علاقوں میں احتیاطی طور پر انٹرنیٹ سروس بھی سست کر دی گئی۔ دکانیں اور بازار کئی مقامات پر بند رہے اور خواتین تاجروں نے بھی یکجہتی کے طور پر اپنی دکانیں بند رکھیں۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (ETV Bharat)

جموں میں شدید احتجاج

جموں میں بھی شیعہ اکثریتی علاقوں میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جہاں لوگوں نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ احتجاجی مظاہرہ کے دوران مظاہرین امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (ETV Bharat)

رامبن: چندررکوٹ میں جلوس اور سوگ

ضلع رامبن کے چندررکوٹ، جو خطہ چناب کا اکثریتی شیعہ آبادی والا علاقہ ہے، میں اتوار کی صبح امام باڑہ اور جامع مسجد کے درمیان سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔ مظاہرین نے خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (ETV Bharat)

امام جامع مسجد چندررکوٹ سید ثمر کاظی نے اپنے خطاب میں ایرانی رہنما پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر انسانی، وحشیانہ اور بزدلانہ عمل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کریں۔

مقامی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ
جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (PTI)

اننت ناگ: شانگس، جھترگل اور ولرہامہ میں مشترکہ مظاہرے

ضلع اننت ناگ کے شانگس علاقے کے جھترگل اور ولرہامہ میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں شیعہ اور سنی برادری کے افراد نے مشترکہ طور پر شرکت کی، جسے مقامی لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قرار دیا۔

مظاہرین نے پرامن انداز میں ریلیاں نکالیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار نہ کی جائے۔ مقررین نے کہا کہ ’’انسانیت کے نام پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرنا ہر فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘‘ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (ETV Bharat)

بانڈی پورہ: نوگام سوناواری سے لال چوک تک مارچ

ضلع بانڈی پورہ کے نوگام سوناواری اور ملحقہ شیعہ اکثریتی علاقوں انڈركوٹ، شادی پورہ، تریگام، نازین اور گڈاخود میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مارچ بعد ازاں سری نگر کے لال چوک کی جانب بڑھا، جہاں گھنٹہ گھر پر سب سے بڑا اور پُرامن اجتماع منعقد ہوا۔ مظاہرین نے وہاں ظہر کی نماز بھی ادا کی اور سوگ کا اظہار کیا۔ اس دوران پولیس اور نیم فوجی دستے الرٹ رہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ
جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (PTI)

تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر حکومت نے احتجاج کے پیش نظر تمام اسکول اور کالج دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ تعلیمی ادارے پیر سے کھلنے والے تھے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث انہیں عارضی طور پر بند رکھا جائے گا۔

کشمیر کے سینئر مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے وادی میں مکمل پرامن ہڑتال کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ وقت امت کے اتحاد کا ہے، ہمیں پرامن طریقے سے احتجاج اور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔‘‘ متحدہ مجلس علما (ایم ایم یو) نے بھی ہڑتال کی حمایت کی۔

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ یومِ سوگ ہے اور ہم ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہیں۔‘‘

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزارت خارجہ ہند کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ
جموں و کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت پر احتجاجی مظاہرے: جموں سے سرینگر تک ریلیاں، تعلیمی ادارے بند، ہڑتال کی کال، سکیورٹی ہائی الرٹ (PTI)

پولیس کی ایڈوائزری

جموں و کشمیر پولیس نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون و انتظام سے متعلق خبروں کی اشاعت سے قبل انہیں سرکاری ذرائع سے تصدیق کی جائے۔ پولیس نے خبردار کیا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مجموعی طور پر وادی کشمیر اور جموں خطے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاج پُرامن رہے، تاہم سکیورٹی فورسز پوری طرح الرٹ رہیں۔ سیاسی و مذہبی قیادت نے عوام سے امن، تحمل اور اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔