ETV Bharat / jammu-and-kashmir
امرناتھ سے لداخ تک نئی راہداری کی تجویز، یاترا اور سیاحت کو نئی سمت و فروغ ملنے کی توقع
نئی تجویز منظور ہونے پر یاتری امرناتھ درشن کے بعد اسی سفر میں لداخ پہنچ سکیں گے اور بآسانی سندھو درشن کر پائیں گے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : July 11, 2026 at 3:24 PM IST
سرینگر: امرناتھ گپھا کو لداخ کے ساتھ جوڑنے کے لیے چھ کلومیٹر طویل نئے راستے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو ہمالیائی خطے میں مذہبی یاترا اور سیاحت کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت شردھالو ایک ہی دن میں امرناتھ گپھا کی یاترا کرنے کے بعد لداخ کے سندھو درشن مقام تک بھی پہنچ سکیں گے۔
مجوزہ راستہ امرناتھ گپھا کو بالتل ٹاپ سے جوڑے گا، جہاں سے سرینگر جموں قومی شاہراہ (سرینگر-لیہہ شاہراہ) تک براہِ راست رابطہ قائم ہوگا۔ اگر اس منصوبے کو منظوری ملتی ہے اور یہ مکمل ہو جاتا ہے تو بالتل راستے سے آنے والے یاتری کشمیر واپس لوٹنے کے بجائے اپنا سفر لداخ تک جاری رکھ سکیں گے، جس سے مذہبی سیاحت کا ایک نیا سلسلہ قائم ہوگا۔
سرکاری حکام اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے جموں و کشمیر اور لداخ دونوں کو فائدہ ہوگا، کیونکہ سیاح زیادہ دن تک قیام کریں گے اور سالانہ یاترا کے علاوہ دیگر سیاحتی مقامات کا بھی رخ کریں گے۔
سونہ مرگ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اس تجویز پر خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہوٹلوں، ٹیکسی سروس، ریستورانوں اور دیگر کاروباروں کو نئی رفتار ملے گی۔
سونہ مرگ کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس چلانے والے غلام نبی نے کہا: "ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ یاتری درشن کے فوراً بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ لداخ کی طرف جائیں گے تو شاہراہ کے نزدیک سبھی کاروباریوں کو فائدہ ہوگا۔"
ٹیکسی ڈرائیور بشیر احمد چیچی نے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر سے سرینگر، امرناتھ اور لیہہ کو جوڑنے والے نئے سفری پیکج متعارف کرائے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا: "بہت سے سیاح پہلے ہی پوچھتے ہیں کہ کیا امرناتھ یاترا کے ساتھ لداخ کا سفر بھی کیا جا سکتا ہے؟ براہِ راست راستہ بننے سے یہ کام بہت آسان ہو جائے گا۔"
لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل (لیہہ) کے چیئرمین تاشی گیالسن کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد نازک پہاڑی ماحول کو متاثر کیے بغیر بلند پہاڑی علاقوں میں رابطہ بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا: "امرناتھ اور لداخ کے درمیان براہِ راست رابطہ ہمالیہ میں مذہبی سیاحت کو ایک نئی شکل دے سکتا ہے۔ اس سے زیادہ یاتری یاترا مکمل کرنے کے بعد لداخ جائیں گے، جس سے مقامی کاروبار، ہوٹل، ٹرانسپورٹ، دستکاروں اور سندھو درشن سمیت علاقے کے ثقافتی مقامات کو فائدہ پہنچے گا۔"
یہ تجویز ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب لداخ کو سندھو درشن میلے کے ذریعے "روحانی سیاحت" کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ میلہ ہر سال لیہہ کے قریب دریائے سندھ کے کنارے منعقد ہوتا ہے۔
اسی سلسلے میں حال ہی میں بہار حکومت نے سندھو درشن یاترا کرنے والے ریاست کے باشندوں کے لیے مالی امداد کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل یاتری اپنے سفری اخراجات کا 50 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 20 ہزار روپے (دونوں میں جو بھی کم ہو)واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت ہر سال صرف 100 یاتریوں تک محدود ہوگی اور یاترا مکمل کرنے کے بعد ضروری دستاویزات جمع کرانے پر دی جائے گی۔
سیاحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی مالی سہولتوں سے مشرقی بھارت کے مزید یاتری لداخ کو اپنے سفری منصوبے میں شامل کریں گے، خاص طور پر اگر امرناتھ-لداخ رابطہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے۔
سرینگر کے ٹریول آپریٹر شاہد وانی نے کہا: "شمالی بھارت میں مذہبی سیاحت کا نقشہ بدل رہا ہے۔ اب یاتری عبادت کے ساتھ ساتھ سیاحت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ امرناتھ سے لداخ تک آسان سڑک رابطہ بہت سے خاندانوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔"
اس وقت یاتری امرناتھ گپھا تک یا تو روایتی پہلگام راستے سے پہنچتے ہیں یا پھر مختصر بالتل راستے سے۔ بالتل کا راستہ اختیار کرنے والے بہت سے شردھالو ایک ہی دن میں یاترا مکمل کرکے واپس بیس کیمپ پہنچ جاتے ہیں۔ نئی تجویز کے مطابق وہ واپسی کے بجائے دراس، کرگل اور لیہہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکیں گے۔
جموں و کشمیر محکمہ سیاحت کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: "یہ تجویز ابھی غور و فکر کے مرحلے میں ہے اور اس پر آگے بڑھنے سے پہلے کئی تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔ اگر منصوبے کو منظوری ملتی ہے تو امرناتھ اور لداخ کے درمیان ایک مربوط مذہبی راہداری قائم ہوگی، جس سے سیاحت اور مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔"
سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو امرناتھ اور لداخ کو جوڑنے والی یہ راہداری بھارت کے اہم ترین مذہبی سیاحتی راستوں میں شمار ہو سکتی ہے، جہاں یاتری ایک ہی سفر میں دو بڑے مذہبی مقامات کے درشن کر سکیں گے۔
لداخ جانے والے مسافروں کے لیے بائیک اور کار کرایہ سروس چلانے والے جاوید خان نے کہا: "اس تجویز میں بے پناہ امکانات ہیں، لیکن سب کچھ حکومت کی منظوری پر منحصر ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت بن گیا تو نہ صرف یاتریوں کا سفر آسان ہوگا بلکہ پورے خطے میں سیاحت اور کاروبار کو بھی بڑا فروغ ملے گا۔"
یہ بھی پڑھیں:
کمزور پہاڑ، شدید بارشیں: چناب ویلی ہر مون سون میں کیوں لرز رہی ہے؟

