ETV Bharat / jammu-and-kashmir

ہمدردی کی نوکری میں اعلیٰ عہدہ نہیں مل سکتا: ہائی کورٹ

ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ ہمدردی کی نوکری محض ایک کنبے کو فائنانشل سپورٹ دینے کی خاطر دی جاتی ہے۔

ا
ہائی کورٹ (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : March 4, 2026 at 7:00 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے ہمدردی کی بنیاد پر سرکاری نوکری دینے کے معاملے میں ایک اہم وضاحت کی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کو ہمدردی کی بنیاد پر ملازمت دی جائے تو وہ اپنی مرضی سے کسی اونچے عہدے کا حق دار نہیں بن سکتا۔

سرینگر میں جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریاستی حکام کی اپیل منظور کرتے ہوئے 2015 کا وہ فیصلہ منسوخ کر دیا جس میں جاوید احمد گنائی کو 13 ستمبر 2000 سے اسٹور کیپر ماننے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ معاملہ بیس سال سے زیادہ پرانا ہے اور جموں و کشمیر کے SRO 43 یعنی 1994 کے ہمدردی تقرری قوانین کی تشریح سے جڑا ہوا ہے۔

ریاستی حکومت نے یہ اپیل جاوید احمد گنائی کے حق میں دی گئی راحت کے خلاف دائر کی تھی۔ محمد اکرم گنائی کے فرزند جاوید احمد گنائی جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں نوگام کے سندو بل گاؤں کے رہائشی ہیں۔

جاوید احمد گنائی کو 13 ستمبر 2000 کو ڈپٹی کمشنر اننت ناگ نے SRO 43 کے تحت ہمدردی کی بنیاد پر اسٹور کیپر کے عہدے پر تعینات کیا تھا، جس کی تنخواہ اس وقت 3050 سے 4910 روپے تھی۔

لیکن انہیں اس عہدے پر کام شروع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ بھرتی قوانین کے مطابق اسٹور کیپر ایک ترقی پانے والا عہدہ تھا۔ اس کے بجائے انہیں کم تنخواہ والے کلاس چہارم کے عہدے پر کام کرنے کی اجازت دی گئی جس کی تنخواہ 2550 سے 3200 روپے تھی۔ اونچے عہدے کے لیے ان کا معاملہ متعلقہ حکام کو روانہ کر دیا گیا۔

اپنے ساتھ ناانصافی محسوس ہوتے دیکھ گنائی نے 2006 میں ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کو ہدایت دی کہ وہ ان کے دعوے پر غور کرے۔

بعد ازاں حکومت نے 25 اپریل 2008 کو حکم جاری کر کے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ حکم میں کہا گیا کہ اگر کسی افسر سے غلطی ہوئی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک اور غلطی کی جائے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ ان کی تقرری 13 ستمبر 2000 سے کلاس چہارم کے عہدے پر ہی تصور کی جائے گی۔

گنائی نے 2008 کے اس حکومتی حکم کو بھی عدالت میں چیلنج کیا۔ جولائی 2015 میں ہائی کورٹ کے ایک سنگل جج نے حکومت کا حکم منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ گنائی کو 13 ستمبر 2005 سے اسٹور کیپر سمجھا جائے، تاہم چونکہ وہ کلاس چہارم کی پوسٹ پر کام کر چکے ہیں اس لیے انہیں اسٹور کیپر کی تنخواہ نہیں ملے گی۔

ریاستی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل دائر کی۔ ڈویژن بنچ نے اس معاملے پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلوں، خاص طور پر ریاست اترپردیش بمقابلہ پریملتا ( State of Uttar Pradesh vs Premlata ) کا حوالہ دیا۔

عدالت نے کہا کہ ہمدردی کی بنیاد پر تقرری عام بھرتی کے اصول سے ایک استثنا ہے۔ اس کا مقصد صرف اس خاندان کی مدد کرنا ہوتا ہے جس کا کفیل ملازمت کے دوران انتقال کر گیا ہو اور گھر مالی مشکل میں ہو۔ اس کا مقصد خاندان کو کوئی مخصوص یا اونچا عہدہ دینا نہیں ہے۔

بنچ نے صاف الفاظ میں کہا کہ "ہمدردی کی بنیاد پر اونچا عہدہ مانگنا قانونی حق نہیں ہے۔" عدالت نے یہ بھی کہا کہ چونکہ گنائی نے کلاس چہارم کی پوسٹ قبول کر لی تھی اس لیے وہ بعد میں اسٹور کیپر بننے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے ایک مقدے راجستھان بمقابلہ امراؤ سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ "ایک بار ہمدردی کی بنیاد پر تقرری ہو جائے تو معاملہ وہیں ختم ہو جاتا ہے، ورنہ یہ "لامتناہی ہمدردی" بن جائے گی۔

عدالت نے مزید کہا کہ اسٹور کیپر کا عہدہ ترقی کے ذریعے ملتا ہے اور اس کے لیے کم از کم پانچ سال کا تجربہ ضروری ہے۔

آخر میں ڈویژن بنچ نے 10 جولائی 2015 کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے واضح کیا کہ گنائی اگر ترقی چاہتے ہیں تو انہیں بھرتی قوانین اور سینیارٹی کے مطابق ہی ترقی مل سکتی ہے، نہ کہ صرف ابتدائی ہمدردی تقرری کی بنیاد پر۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. ہائی کورٹ نے بنکر کی تعمیر کے سترہ سال پراے معاملے میں ٹھیکہ دار اور دفاعی حکام کے مابین ثالث مقرر کیا
  2. بغیر معاوضہ ہائی وے کیلئے اراضی لینے پر حکومت کو ہائی کورٹ کی پھٹکار