ETV Bharat / jammu-and-kashmir
'قیدی بھی آخر انسان ہے'، کورٹ نے دی انڈر ٹرائل کو والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت
کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 21اور سپریم کورٹ رولنگ کا بھی حوالہ دیا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 27, 2026 at 6:23 PM IST
|Updated : February 27, 2026 at 6:35 PM IST
سرینگر: سرینگر کی ایک عدالت نے زیر سماعت قیدی کو کپوارہ میں اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ تاہم کورٹ احکامات کے اس دوران ان کے ساتھ پولیس کی بھاری نفری ساتھ رہے گی۔ عدالت نے کہا: "قانون والدین کے ماتم کرنے والے بیٹے کے انسانی غم کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔"
یہ حکم منجیت رائے، ایڈیشنل سیشن جج ٹاڈا/پوٹا اور این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج نے صدادر کیا۔ اور کورٹ نے یہ فیصلہ زیر ٹرائل ملزم ممتاز احمد لون، ولد غلام قادر لون ساکنہ ترہگام، کپوارہ کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر سنایا۔
یہ عرضی پولیس اسٹیشن بٹہ مالو بمقابلہ ممتاز احمد لون اور دیگر کے ذریعے جموں و کشمیر یوٹی کے عنوان سے درج ایف آئی آر نمبر 128/2023 کے تحت مقدمہ کے دوران دائر کی گئی۔
لون نے اپنی والدہ نسیمہ کی آخری رسومات اور مذہبی تقاریب میں شرکت اور انہیں انجام دینے کی اجازت کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ لون کی والدہ 20 فروری 2026 کو دل کی تکلیف کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ "مذہبی اور سماجی رسم و رواج کے مطابق بیٹے کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی آخری رسومات میں شرکت کرے۔" لون نے عدالت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع کرانے ساتھ ہی استدعا کی کہ اسے تقاریب میں شرکت کا موقع نہ دینے سے اسے شدید جذباتی ٹھیس پہنچے گا۔
ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ "لون، ترہگام کا مستقل رہائشی ہے اور کمیونٹی میں اس کی جڑیں مضبوط ہیں۔" دفاع نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ پولیس کے سخت حفاظتی حصار میں لے جانے کے لیے تیار ہے اور جو بھی شرائط عائد کی جائیں گی ان کی تعمیل بھی کرے گا۔
استغاثہ نے درخواست کی مخالفت کی
درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر نے دلیل دی کہ "لون ہائی رسک انڈر ٹرائل ہے اور اسے سرینگر سے کپوارہ لے جانے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری تعیناتی کی ضرورت ہوگی۔" استغاثہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس طرح کی نقل و حرکت سے پولیس کے وسائل پر کافی دباؤ پڑے گا اور یہ کہ متوفیہ کی تدفین ہو چکی ہوگی۔
دونوں فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے کہا کہ ایک جانب جہاں سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہیں دوسری جانب قانون کو بھی جانی نقصان اور انسانی جذبے کا پاس و لحاظ رکھا جانا چاہئے۔
عدالت نے کہا: "جبکہ عدالت استغاثہ کی طرف سے اجاگر کیے گئے سیکورٹی خدشات اور لاجسٹک چیلنجز کو ذہن میں رکھتی ہے، عدالت درخواست گزار کی طرف سے اٹھائے گئے انسانی اور ہمدردی کی بنیادوں سے غافل نہیں رہ سکتی"۔
ماں کی موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ آخری رسومات ادا کرنے کی خواہش فطری ہے۔ کورٹ نے کہا: "کسی کی ماں کی موت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، اور آخری رسومات ادا کرنے کی خواہش مذہبی، ثقافتی اور جذباتی خیالات میں گہری جڑی ہوئی ہے۔"
آرٹیکل 21کا حوالہ
عدالت نے آئین ہند کے آرٹیکل 21 کا بھی حوالہ دیا، جو عزت کے ساتھ زندگی اور ذاتی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ کورٹ نے مشاہدہ کیا: "ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 21 وقار کے ساتھ زندگی اور ذاتی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے، جس میں مذہبی رسومات کی پابندی کرنے اور زیر حراست افراد کے لیے بھی خاندانی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا حق شامل ہے۔"
سپریم کورٹ رولنگ
سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے جج نے مشاہدہ کیا: "سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ قیدی آخر انسان ہی ہوتے ہیں اور قید کے باوجود ضروری پابندیوں کے تحت اپنے تمام بنیادی حقوق کا حق رکھتے ہیں۔"
عدالت نے مزید کہا کہ اسلامی روایت میں موت کے بعد کی رسومات کئی دنوں تک جاری رہتی ہیں اور بیٹے کی موجودگی گہری مذہبی اور جذباتی اہمیت رکھتی ہے۔ "اگرچہ مذہبی رسومات کا آغاز ہو چکا ہو، اسلامی روایت میں موت کے بعد کی تقریبات دنوں تک جاری رہتی ہیں، اور بیٹے کی موجودگی کو مذہبی اور جذباتی اہمیت حاصل ہے۔ اس موقع سے انکار درخواست گزار کے لیے ناقابل تلافی ذہنی اذیت کا باعث بنے گا۔"
یہ بھی پڑھیں:

