ETV Bharat / jammu-and-kashmir

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ہوگی مردم شماری

سیاسی رہنماؤں نے مردم شماری کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے شفافیت سے کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ہوگی مردم شماری
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ہوگی مردم شماری (Image : ETV Bharat)
author img

By Muhammad Zulqarnain Zulfi

Published : January 9, 2026 at 8:32 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: تازہ سرکاری ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کے سبب تقریباً 16 سال بعد جموں کشمیر اور لداخ میں مردم شماری 2027 کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مردم شماری کو 5 اگست 2019 کو خصوصی آئینی حیثیت یعنی دفعہ 370کی منسوخی کے بعد، حکومتی منصوبہ بندی، انتظامی فیصلوں اور سیاسی نمائندگی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مردم شماری 2027 کا پہلا مرحلہ یعنی مکانات کا شمار و گھروں کی فہرست سازی، یکم اپریل سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان ہوگی۔ اس دوران ریاستیں اور یونین ٹیریٹریز اپنی سہولت کے مطابق اسی مدت میں 30 دن تک یہ عمل مکمل کریں گیں۔ پہلے مرحلے میں گھروں، رہائشی حالات، سہولتوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کی جائیں گیں۔ یہی ڈیٹا 2027 میں ہونے والی مکمل آبادی گنتی کی بنیاد بنے گا۔

ملک میں آخری مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی وہیں جموں کشمیر اور لداخ کے لیے یہ مردم شماری مزید اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ ریاست سے یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد یہ پہلی مردم شماری ہوگی۔ 2021 کی مردم شماری کووڈ وبا کی وجہ سے ملتوی ہوئی اور دوبارہ شروع نہ ہو سکی، جس کے بعد دونوں خطے تقریباً ڈیڑھ دہائی سے نئے آبادی ڈیٹا کے بغیر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تازہ ڈیٹا نہ ہونے سے فلاحی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے، شہری منصوبہ بندی اور مختلف شعبوں کی پالیسی بنانے میں مشکلات حائل ہو رہی ہیں۔ ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: ’’جموں کشمیر میں حالیہ سیاسی اور انتظامی تبدیلیوں کے بعد، مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سے زمینی سطح پر اصل آبادی اور سماجی و معاشی حقائق پوری طرح واضح ہوں گے۔‘‘

سال 2019 میں جموں کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنایا گیا، جبکہ لداخ کو آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں خطوں میں انتظامی ڈھانچے، حکمرانی، سیاحت، نقل مکانی، معیشت اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ وہیں سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ’’شفاف اور سائنسی طریقے سے عمل‘‘ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کا ماننا ہے کہ ’’مردم شماری سے کئی ابہام دور ہوں گے اور حکومت، آبادی کے تناسب کے مطابق پالیسیاں وضع کر سکے گی۔‘‘

کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ چودھری لال سنگھ نے کہا کہ ’’مردم شماری پہلے ہی بہت تاخیر کی شکار ہے، تاہم یہ مردم شماری اصل آبادی، ذات، مذہب اور علاقائی تناسب کو واضح کرے گی، فنڈز اور اسمبلی و پارلیمنٹ نشستوں کی ضرورت بھی صاف ہو جائے گی۔ یہ قدم اچھا ہے لیکن شفاف اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔‘‘

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بھی مردم شماری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’’یہ عوام کے مفاد میں اور سائنسی طریقے سے ہوگی۔‘‘

بی جے پی کے ایم ایل اے، رنبیر سنگھ پٹھانیا، نے کہا کہ ’’جموں کشمیر اور لداخ میں مردم شماری، ملک کے قومی شیڈول کے مطابق ہی ہو رہی ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ خطہ اب مکمل طور پر مین اسٹریم کا حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’الگ اور تاخیر والے ڈیٹا جمع کرنے کا دور ختم ہو گیا ہے، یہ اب ’ایک قوم، ایک قانون، ایک ڈیٹا‘ کی نئی اور اصل حقیقت ہے۔‘‘

ادھر، لداخ میں بھی انتظامی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، لیفٹیننٹ گورنر نے مردم شماری کے کمشنر اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ساتھ میٹنگ کر کے بالائی خطے کے انتظامی اور زمینی چیلنجز پر بات کی۔ اس میں اسٹاف، ٹریننگ اور دور دراز اور برف کی وجہ سے کٹے ہوئے علاقوں میں عمل کو بہتر بنانے پر گفتگو ہوئی۔

لداخ میں سخت سردی اور دشوار راستوں کے باعث وہاں گنتی ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے جلد شروع کی جا سکتی ہے تاکہ دور افتادہ دیہات اور خانہ بدوش آبادی تک مکمل رسائی ہو سکے۔

2027 کی مردم شماری بھارت کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی جس کا ڈیٹا موبائل ایپ اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کیا جائے گا، جبکہ گھر بیٹھے خود گنتی کا آپشن بھی دیا جائے گا، جس کے بعد گنتی عملہ فیلڈ میں جا کر تصدیق کرے گا۔ حکام کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل طریقے سے جموں کشمیر کے شہری علاقوں میں ڈیٹا زیادہ تیز اور درست جمع ہوگا، جبکہ دور دراز علاقوں میں انتظامی مشکلات بھی کم ہوں گی۔

جموں کشمیر میں ضلع انتظامیہ کے ساتھ تال میل کر کے جلد نقشوں کی اپڈیٹ، گنتی بلاکس کی نئی تقسیم اور عملے کی ٹریننگ شروع کی جائے گی۔ خاص طور پر سرینگر اور جموں کے بڑھتے شہری علاقوں، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے دیہات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔