ETV Bharat / jammu-and-kashmir

بجلی کے ٹیرف میں اضافہ عوامی مشکلات کے درمیان سیاسی ردِعمل

وں کا کہنا ہے کہ انہیں 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران وعدہ کیے گئے 200 یونٹ مفت بجلی دی جائی گی۔

بجلی کے ٹیرف میں اضافہ عوامی مشکلات کے درمیان سیاسی ردِعمل
بجلی کے ٹیرف میں اضافہ عوامی مشکلات کے درمیان سیاسی ردِعمل (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 23, 2026 at 5:05 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

پلوامہ : جموں و کشمیر میں یکم ستمبر سے بجلی کے ٹیرف میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کے حکومتی فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اس فیصلے کے وقت اور ضرورت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی غلام محی الدین میر نے یقین دہانی کرائی کہ بجلی کے ٹیرف میں کسی بھی اضافے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بجلی کے ٹیرف میں اضافہ عوامی مشکلات کے درمیان سیاسی ردِعمل (ETV Bharat)

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ غلام محی الدین میر نے کہا کہ وہ اس معاملے کو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کے عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب بجلی کے نرخوں میں اضافے پر عوام میں بھی ناراضی پائی جا رہی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران وعدہ کیے گئے 200 یونٹ مفت بجلی دی جائی گی، لیکن مفت بجلی کے بجائے بجلی کے بلوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سماجی کارکن فاروق احمد میر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دان اکثر عوام کو جھوٹے وعدوں سے بہلاتے ہیں اور بعد میں اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے 200 یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب انہیں ریلیف کے بجائے اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

فاروق احمد میر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وادی کے لوگ پہلے ہی قدرتی آفات اور مالی مشکلات سے متاثر ہیں۔ ادھر بی جے پی کی جانب سے آنے والے سیکریٹریٹ گھیراؤ کے اعلان پر نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی غلام محی الدین میر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال ’’بی جے پی کا تحفہ‘‘ ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے سیکریٹریٹ گھیراؤ کو محض مایوسی اور سیاسی بے چینی کا اظہار قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل اسپیس ڈے پر پی ایم مودی نے سائنسدانوں کو مبارکباد دی، کہا جین زی نئی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں


بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے فیصلے نے ایک بار پھر حکومت کے انتخابی وعدوں، عوام کو دی جانے والی سہولیات اور بڑھتی ہوئی مالی مشکلات کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔