ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پولیس نے قبائلیوں کی فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے نفاذ کے مطالبے کو لے کرپیدل مارچ کو بنایا ناکام، ایف آئی آر درج
مظاہرین نے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : June 2, 2026 at 8:34 AM IST
جموں (محمد اشرف گنائی): جنگلاتی حقوق کے قانون (فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006) کے مکمل نفاذ، حالیہ انہدامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج اور بے گھر ہونے والے قبائلی خاندانوں کے حق میں پیر (یکم جون) کو جموں کے بانڈی سدھرا (بانڈی راگوڑا) علاقے میں گجر-بکروال برادری کے قبائلی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، طلبہ اور نوجوانوں کا ایک بڑا اجلاس منعقد ہوا۔
یہ اجتماعی میٹنگ اسی مقام پر منعقد کی گئی جہاں حالیہ دنوں میں متعدد گجر-بکروال خاندانوں کے مکانات کو مسمار کیا گیا تھا، جس کے خلاف قبائلی برادری میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اجلاس میں مقررین نے انہدامی کارروائیوں کو قبائلی برادری کے حقوق، شناخت اور روزگار کے ذرائع پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی علاقوں میں رہائش پذیر قبائلی آبادی کو آئینی اور قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ شرکاء نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر مناسب بازآبادکاری، معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
اجلاس کے بعد قبائلی رہنماؤں اور کارکنوں نے متفقہ طور پر بانڈی سدھرا سے سرینگر تک ایک پرامن پیدل مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس مارچ کا مقصد حکومت کی توجہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کے مکمل نفاذ، جبری بے دخلیوں کے خاتمے اور قبائلی حقوق کے تحفظ کی جانب مبذول کرانا ہے۔ تاہم مارچ کے آغاز سے قبل پولیس نے مظاہرین کو کشمیر کی جانب پیش قدمی کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی اور متعدد قبائلی رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
اس موقع پر گجر-بکروال اسٹوڈنٹس الائنس سے وابستہ سماجی کارکن عامر چودھری نے کہا کہ یہ پیدل مارچ ایک پرامن اور جمہوری تحریک ہے جس کا مقصد قبائلی برادری کو انصاف دلانا اور حکومت کو جنگلاتی حقوق کے قانون کے مؤثر نفاذ پر آمادہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجر-بکروال برادری اپنے آئینی حقوق، شناخت اور وقار کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے، قبائلی خاندانوں کی جبری بے دخلی اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ بند کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کو یقینی بنایا جائے اور قبائلی آبادی کو زمینوں اور جنگلاتی وسائل پر ان کے قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
دوسری جانب پولیس نے واقعے کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کے روز پولیس اسٹیشن باغِ باہو کی ایک پارٹی، آئی ٹی بی پی اور آرمڈ پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ بانڈی راگوڑا میں امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تعینات تھی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کو بارہا خبردار کیا گیا تھا کہ مناسب اجازت کے بغیر احتجاجی مارچ نہ کیا جائے کیونکہ اس سے امن و قانون کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ طالب حسین اور ان کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر پتھراؤ شروع کیا، اشتعال انگیز تقاریر کیں اور پولیس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں پولیس نے چند ہوائی فائر کیے۔ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن باغِ باہو میں ایف آئی آر نمبر 33/2026 درج کر لی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:

