ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پی او کے میں آج حکومت پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل
مقبوضہ کشمیر کے راولاکوٹ میں احتجاج کے دوران گذشتہ روز ایڈووکیٹ مہرا خواجہ نے شہریوں کے قتل پر پاکستانی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

By ANI
Published : July 5, 2026 at 9:52 AM IST
راولاکوٹ: پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں گذشتہ روز بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور حکومت پاکستان کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران ایڈووکیٹ مہرا خواجہ نے معصوم شہریوں کے بہیمانہ قتل پر پاکستانی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں۔
ایک ویڈیو میں ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں جو فوج کو کسی کو مارنے کا حق دیتا ہو۔ انہوں نے قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مستعفی ہوجانا چاہئے کیونکہ ان میں بامعنی بات چیت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
خواجہ نے برطانیہ میں مقیم کشمیریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ پانچ جولائی کو پاکستان کے اقدامات کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ایک بڑا احتجاج کریں۔ انہوں نے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے حکومت پاکستان پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ خطے کے وسائل کا غلط استعمال کر رہی ہے اور اب ان کی شکایت سننے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کو مار رہی ہے۔ انہوں نے کئی شہروں کے لوگوں سے سڑکوں پر نکلنے اور دکانیں اور چوکوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی اپیل کی۔ اس دوران ان کی بات سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے پاکستانی فوج پر بے گناہ لوگوں کو مارنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بڑھتی مہنگائی اور خطے میں انٹرنیٹ کی بندش پر افسوس کا اظہار کیا۔ دریں اثناء سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) میں لوگوں کے پرامن احتجاج پر ظالمانہ کریک ڈاؤن کا انکشاف کیا ہے۔
اس ویڈیو میں جموں اور کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ایک اہم رکن سردار امان خان کا پی او کے، کے لوگوں اور کشمیر، لداخ، پونچھ اور راجوری کے لوگوں کے نام ایک پیغام جاری کیا گیا ہے، جنہوں نے پانچ جولائی کو احتجاج کی کال کی حمایت کی ہے۔ ویڈیو میں سردار امان خان نے کہا کہ میں اس پیغام کے ذریعے وادی کشمیر کے لوگوں بالخصوص سری نگر کے لوگوں سے مخاطب ہوں۔
مزید پڑھیں: پی او کے ہلاکتوں نے پاکستان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا: پی او جے کے پناہ گزین
بارہمولہ اور آس پاس کے تمام اضلاع کے لوگوں سے، پونچھ اور مینڈھر کے لوگوں سے، ہم راجوری، جموں، لداخ، کارگل، گلگت بلتستان اور پوری ریاست کے لوگوں سے مخاطب ہیں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، کشمیر (PoJK) کو دباؤ اور جبر کا سامنا کرتے ہوئے تقریباً ایک ماہ ہو گیا ہے۔
اپنے بنیادی حقوق مانگنے پر یہاں کے لوگوں پر ظلم، ناانصافی، قتل عام اور فوجی حملے اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہماری خوراک اور پانی کی سپلائی منقطع ہے، ہماری ادویات کی سپلائی بند ہے۔ اگر ہم سانس بھی لے رہے ہیں تو حکمران اور فوج سوال کرتے ہیں کہ یہاں کے لوگ کیوں سانس لے رہے ہیں؟
اس مشکل وقت میں، ہم تمام لوگوں سے بشمول سرحد پار کے لوگوں سے، اور خاص طور پر پونچھ، مینڈھر، راجوری، جموں، وادی، لداخ اور کارگل کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں۔ ہم نے پانچ جولائی کو ایک احتجاج کا اہتمام کیا ہے، اور ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ باہر نکلیں، ہمارے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں، اور اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پی او کے کی صورتحال پر فاروق عبداللہ کا اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ
قبل ازیں 30 جون کو، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے پاکستانی حکام پر اس وقت سخت تنقید کی جب حزب اختلاف کے رہنماؤں کی قیادت میں ایک سیاسی وفد کو مبینہ طور پر پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
کمیٹی نے اس اقدام کو ریاست کی جانب سے جمہوری حقوق کو دبانے اور سیاسی اختلاف کا مزید ثبوت قرار دیا۔ کمیٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکام نے سیاسی نقل و حرکت سے ہٹ کر پابندیاں عائد کی ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اس سے کھانے کی فراہمی میں خلل پڑا ہے اور علاقے تک رسائی کم کردی گئی ہے۔
جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مہم ایک پرامن تحریک ہے جو بنیادی حقوق کے حصول پر مرکوز ہے اور متنبہ کیا کہ وہ مسلسل جبر کے باوجود ہمت نہیں ہاریں گے۔ جاری احتجاج پاکستان کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر حکام اور ان کے حامیوں کے رویے کو بے نقاب کر رہا ہے۔ کمیٹی نے حامیوں سے ثابت قدم رہنے کی اپیل کی اور زور دیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے پرامن مظاہرے جاری رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ایل اے گریز کی پی او کے میں شہری ہلاکتوں کی مذمت
جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کامیاب، معاہدہ جلد متوقع
پی او کے میں حکومت پاکستان کے خلاف زبردست مظاہرے، پولیس کی فائرنگ سے تین مظاہرین ہلاک

