ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں کشمیر: عوامی خدمات میں تاخیر پر عدالت برہم، انتظامیہ سے جواب طلب

ہائی کورٹ نے عوامی خدمات کی بروقت فراہمی سے متعلق قانون کے مؤثر نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔

ا
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : February 24, 2026 at 3:47 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے عوامی خدمات کی بروقت فراہمی سے متعلق قانون کے مؤثر نفاذ کے معاملے پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے انتظامیہ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ کارروائی ایک عوامی مفاد کے تحت دائر کی گئی عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران انجام دی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ قانون سرکاری محکموں میں عملی طور پر نافذ ہی نہیں ہو سکا۔

ڈاکٹر شیخ غلام رسول کی جانب سے دائر کی گئی تھی عرضی کی سماعت سرینگر ونگ میں چیف جسٹس ارون پلی اور جسٹس راجنیش اوسوال پر مشتمل بنچ نے کی۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ نوید بختیار پیش ہوئے جبکہ حکومت کی نمائندگی ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل حکیم امان علی نے کی۔

عدالتی کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جموں کشمیر پبلک سروس گارنٹی ایکٹ (Public Service Guarantee Act) اور اس سے متعلق وضع کیے گئے قواعد واضح طور پر موجود ہونے کے باوجود مختلف سرکاری محکموں میں اس قانون پر سنجیدگی کے ساتھ عمل نہیں کیا جا رہا۔ وہیں حکومت کی جانب سے بارہا ہدایات جاری ہونے کے باوجود کئی محکمے قانون کے نفاذ سے متعلق بنیادی ریکارڈ تک محفوظ نہیں رکھتے۔

درخواست گزار نے اپنی عرضی کو مضبوط بنانے کے لیے آر ٹی آئی (RTI) سے حاصل کی گئی معلومات کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔ آر ٹی آئی ان دستاویز سے یہ انکشات ہوا ہے کہ محکمہ داخلہ، ریونیو اور ٹرانسپورٹ سمیت متعدد اداروں کے پاس نہ تو معائنوں اور نہ آگاہی پروگرامز اور نہ ہی تاخیر پر عائد جرمانوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے آر ٹی آئی درخواستوں کے جواب میں اعتراف کیا کہ تربیتی پروگرامز، عوام کے لیے شروع کیے گئے آگاہی مہمات اور لازمی معائنوں پر ہوئے اخراجات سے متعلق بھی کوئی تفصیلی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

عرضی میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ سال 2012 میں قائم کیے گئے پبلک سروس مینجمنٹ سیل اپنے قانونی فرائض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس سیل کو قانون کے نفاذ کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے مہلت دی ہے اور کیس کی آئندہ سماعت 4 مارچ کو مقرر کر دی ہے۔

جموں کشمیر پبلک سروس گارنٹی ایکٹ سنہ 2012 میں اُس وقت کی حکومت کے دور میں نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد سبھی شہریوں کو سرکاری خدمات خاص کر سرٹیفکیٹس، اجازت نامے اور دیگر سرکاری دستاویزات مقررہ مدت کے اندر فراہم کرنا تھا۔ قانون میں تاخیر کے ذمہ دار اہلکاروں پر جرمانے کی شق بھی اس ایکٹ میں شامل کی گئی ہے۔

عدالت کی جانب سے عرضی قابل سماعت قرار دیے جانے کے بعد مختلف سول سوسائٹی تنظیموں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے عدالتی احکامات کو خوش آئند قرار دیا۔ بیان پر جموں کشمیر آر ٹی آئی موومنٹ، سول سوسائٹی فار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ، فارسٹ رائٹس کولیشن، گجر بکروال یوتھ ویلفیئر کانفرنس اور ہمالین پاسٹورل فاؤنڈیشن سمیت کئی تنظیموں کے دستخط تھے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. ڈیجیٹل ٹولز مستقبل میں عوامی خدمات اور ہمہ جہت ترقی کی کلید ہوں گے: ایل جی منوج سنہا
  2. مدھیہ پردیش میں عوامی خدمات مہم کا آغاز