ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پلوامہ کے چنن واری رتنی پورہ علاقہ کے لوگ پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم

علاقے کے ایک رہائشی اعجاز احمد نے بتایا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے۔

پلوامہ کے چنن واری رتنی پورہ علاقہ کے لوگ پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم
پلوامہ کے چنن واری رتنی پورہ علاقہ کے لوگ پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 22, 2026 at 8:55 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

پلوامہ : ضلع پلوامہ کے چنن واری رتنی پورہ علاقے کے لوگوں کو پینے کے پانی کے حوالے سے مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں مقامی آبادی گزشتہ کئی برسوں سے پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم تھی وہی واٹر سپلائی اسکیم بننے کے باوجود بھی علاقے میں پینے کے پانی کے حوالے سے مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تقریباً 250 گھرانوں پر مشتمل یہ آبادی خصوصاً ماہِ رمضان کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق محکمہ جل شکتی نے رتن پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک واٹر سپلائی اسکیم تعمیر کی تھی، تاہم منصوبے کی تکمیل کے باوجود چنن واری رتنی پورہ کے مکین آج بھی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جس علاقے نے اس اسکیم کے لیے زمین فراہم کی، وہی علاقہ آج پانی سے محروم ہے جبکہ دور دراز علاقوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

علاقے کے ایک رہائشی اعجاز احمد نے بتایا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے۔ سحری اور افطاری کے اوقات میں پانی کی شدید قلت کے باعث لوگوں کو غیر صاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک اور مقامی باشندہ عبدالسلام صوفی نے الزام عائد کیا کہ محکمہ نے علاقے کو صاف اور معیاری نلکے کے پانی کے خواب دکھائے، مگر اسکیم فعال ہونے کے بعد بھی چنانوارہ کے لوگ اب تک ان وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قریبی آبادی کو نظر انداز کرنا کھلی ناانصافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترال میں ایمپلائمنٹ محکمہ کی جانب سے روزگار میلے کا اہتمام


مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ عوام نے ڈپٹی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں۔