ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پی ڈی پی کی نظر میں بڈگام انتخابات ’عمر عبداللہ حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ‘

نیشنل کانفرنس کی انتخابی تاریخ میں ان کے امیدوار نے بڈگام نشست پر پہلی مرتبہ ہار کا سامنا کیا ہے۔

آغا منتظر مہدی
بڈگام میں پی ڈی پی جشن کے دوران آغا روح اللہ کے حق میں نعرے (ای ٹی وی بھارت)
author img

By Moazum Mohammad

Published : November 14, 2025 at 4:53 PM IST

|

Updated : November 14, 2025 at 5:18 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

بڈگام: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی لیڈران بڈگام ضمنی انتخابات کے نتائج کو ’’عمر عبداللہ حکومت کے خلاف عوامی فیصلہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ جمعہ کو مشتہر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج نے جموں کشمیر خاص کر وادی کے سیاسی منظر نامے میں اُس وقت زلزلہ بپا کر دیا جب پی ڈی پی کے امیدوار آغا سید منتظر نے حکمران جماعت (نیشنل کانفرنس) کے امیدوار آغا سید محمود کو شکست دیکر اسمبلی میں پی ڈی پی کو ایک اور نمائندگی دلائی۔

بڈگام میں پی ڈی پی جشن کے دوران آغا روح اللہ کے حق میں نعرے (ای ٹی وی بھارت)

بڈگام نشست پر اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس نے پہلی بار ہار کا سامنا کیا ہے اور اس پی ڈی پی اس جیت کو ’عمر حکومت‘ کے خلاف عوامی منڈیٹ سے تعبیر کر رہی ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی لیڈر اور رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے کہا کہ ’’انتخابی نتائج دراصل ایک سال مکمل کرنے والی (عمر عبداللہ) حکومت کی کارکردگی پر سیدھا فیصلہ ہے۔‘‘ پرہ نے الزام عائد کیا کہ ’’پچاس سے زائد ایم ایل ایز کے باوجود حکومت نے کبھی اصل اور عوام دوست کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی عوامی مسائل کے تئی کوئی سنجیدگی اس حکومت کی کبھی نظر آئی۔‘‘

پرہ نے ان باتوں کا اظہار بڈگام میں کیا جہاں وہ اپنے پارٹی امیدوار منتظر مہدی سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ منتظر کے گھر کے باہر پی ڈی پی حامی - جن میں مرد، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی - جمع ہوئے اور مہدی کی جیت کا جشن منایا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بھڑ نے آتش بازی بھی کی، پٹاخے پھوڑے اور نعرے بازی بھی کی، تاہم حیران کن طور پر یہ نعرے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کے حق میں تھے۔ آغا روح اللہ کی تصویریں ہاتھوں میں لئے لوگ کہہ رہے تھے کہ اسی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے پہلی بار پی ڈی پی کو ووٹ دیا تاکہ نیشنل کانفرنس کو آئینہ دکھایا جا سکے۔

این سی کے اندرونی اختلافات پہلے ہی نمایاں تھے اور اس ہار کے بعد یہ دراڑ اور گہری ہونے کا امکان ہے۔ ضمنی الیکشن اس لیے بھی اہم تھا کہ یہ عمر عبداللہ حکومت کے لیے پہلا عوامی امتحان تھا۔

آغا منتظر مہدی کا تعلق بڈگام کے بااثر شیعہ خاندان سے ہے۔ 32 سالہ مہدی پیشے سے وکیل ہیں اور 2024 میں عمر عبداللہ کے ہاتھوں اسی نشست سے شکست کھا چکے ہیں۔ چونکہ وزیر اعلیٰ نے گاندربل سے بھی الیکشن جیتا تھا اور وہی سیٹ برقرار رکھی اور بڈگام نشست سے مستعفی ہوئے اس لیے بڈگام نشست پر دوبارہ انتخابات ناگزیر قرار پائے۔

ادھر، پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بڈگام کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا انہوں نے ’’صحیح فیصلہ کیا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. بڈگام اسمبلی نشست پی ڈی پی کے نام، این سی کو پہلی مرتبہ شکست
  2. نگروٹہ اسمبلی نشست پر بی جے پی امیدوار دیویانی رانا نے جیت درج کی
Last Updated : November 14, 2025 at 5:18 PM IST