ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں بندی رگوڑا میں احتجاج کے دوران چوہدری طالب حسین گرفتار، پی ڈی پی نے کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈرالتجا مفتی نے چوہدری طالب حسین کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے

قبائلی طبقات کے خلاف  انہدامی کارروائی
قبائلی طبقات کے خلاف انہدامی کارروائی (Etv Bharat)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : June 3, 2026 at 8:09 AM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

جموں ( محمد اشرف گنائی): جموں کشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں کے سدھرا علاقے کے بندی رگوڑا میں منگل کو اُس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب حالیہ انہدامی کارروائی سے متاثرہ خاندانوں کے حق میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ جس کے بعد پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جبکہ اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس کارروائی کو عوامی مسائل اٹھانے والوں کے خلاف سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق بندی رگوڑا جموں میں بغیر اجازت احتجاج کی اطلاع ملنے پر پولیس تھانہ باگِ بہو، آئی ٹی بی پی اور آرمڈ پولیس کے اہلکار موقع پر تعینات تھے اور مظاہرین کو متعدد بار سمجھایا گیا کہ بغیر اجازت احتجاج سے امن و قانون کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ان کے مطابق بعض افراد نے ہجوم کو مشتعل کیا اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔


پولیس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران اشتعال انگیز تقاریر بھی کی گئیں جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ صورتحال پر قابو پانے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ بھی کی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں بعض اہلکاروں کو بھی چوٹیں آئیں اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی جسکے بعد واقعے کے سلسلے میں پولیس تھانہ باگِ بہو میں ایف آئی آر نمبر 33/2026 درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر پولیس نے گوجر رہنما اور پی ڈی پی کے سینئر لیڈر چوہدری طالب حسین کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے ان پر ہجوم کو مشتعل کرنے، ماحول خراب کرنے اور پولیس پر پتھراؤ کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے


پولیس ریکارڈ کے مطابق چوہدری طالب حسین کے خلاف اس سے قبل بھی 13 مجرمانہ مقدمات درج ہیں جبکہ بندی رگوڑا واقعہ کے بعد ان کے خلاف درج ہونے والا موجودہ مقدمہ چودھواں کیس بن گیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما اور ترجمان التجا مفتی نے چوہدری طالب حسین کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ طالب حسین راکہ بندی، سدھرا میں اُن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے موجود تھے جن کے مکانات حالیہ محکمہ جنگلات کی انہدامی کارروائی میں منہدم کیے گئے تھے۔

التجا مفتی نے کہا کہ ایک سیاسی رہنما کو متاثرہ اور کمزور طبقات کی آواز اٹھانے پر گرفتار کرنا جمہوری اقدار اور اختلافِ رائے کے حق کے لیے تشویش ناک پیغام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کی شکایات سننے اور ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی، نہ کہ ان کی نمائندگی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی طور پر کمزور خاندانوں اور قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے مکانات کی مسماری پہلے ہی عوامی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور حکومت کی جانب سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی بھی اب تک اپنی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں لا سکی ہے۔ پی ڈی پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ چوہدری طالب حسین اور احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔
یہ بھی پڑھیں: