ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سری نگر میں جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج

مظاہرین نے عمر عبداللہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور بجلی کی نرخوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سری نگر میں جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج
پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سری نگر میں جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج (IMAGE: ETV BHARAT)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 24, 2026 at 4:01 PM IST

2 Min Read
Choose ETV Bharat

سری نگر: (جاوید احمد ڈار) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے پیر کے روز سری نگر میں الگ الگ احتجاج کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ منظور شدہ اضافے کے خلاف آواز بلند کی۔ پی ڈی پی نے سری نگر میں اپنے پارٹی ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کیا، جہاں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کی مخالفت کی۔

پی ڈی پی اور اپنی پارٹی کا سری نگر میں جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج (VIDEO: ETV BHARAT)

مظاہرین نے حکومت پر صارفین پر بجلی کے زیادہ بلوں کا بوجھ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور سوال اٹھایا کہ انتخابی مہم کے دوران نیشنل کانفرنس کی جانب سے مفت بجلی سے متعلق وعدے کیے جانے کے باوجود بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیوں کیا گیا۔سری نگر کے پریس انکلیو میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے رہنما محمد اشرف میر کی قیادت میں ایک الگ احتجاج کیا گیا۔ پارٹی کارکنوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں نظرثانی کی مخالفت کی۔

مظاہرین نے عمر عبداللہ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور بجلی کی نرخوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ احتجاج جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) کی جانب سے جے پی ڈی سی ایل اور کے پی ڈی سی ایل کے لیے خوردہ بجلی کے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ نرخ یکم ستمبر سے نافذ ہونے ہیں۔

احتجاج کرنے والی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔