ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پہلگام پونی آپریٹرس نے کی گھوڑے بانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کی اپیل

پونی آپریٹرس ایسوسی ایشن پہلگام کے صدر  نے ' ایک لائسنس، ایک گھوڑا' پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

پونی آپریٹرس ایسوسی ایشن، پہلگام کے صدر کی ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو
پونی آپریٹرس ایسوسی ایشن، پہلگام کے صدر کی ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو (ای ٹی وی بھارت)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : May 21, 2026 at 6:10 PM IST

5 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ (میر اشفاق): پہلگام میں پونی آپریٹرس تب سے انتظامیہ کے تئیں سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں جب سے پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ' ایک لائسنس، ایک گھوڑا' پالیسی نافذ کی گئی۔ اس فیصلے کے بعد گھوڑے بانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جو اسے اپنے روزگار کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

پونی آپریٹرس ایسوسی ایشن، پہلگام کے صدر کی ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو (ای ٹی وی بھارت)

ای ٹی وی بھارت کے نمائندے میر اشفاق کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پونی آپریٹرس ایسوسی ایشن پہلگام کے صدر وحید احمد نے کہا کہ 22 اپریل 2025 کو بائیسرن سانحہ کے بعد پہلگام کی سیاحت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک برس سے بھی زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بائیسرن اور چندن واڑی جیسے اہم سیاحتی مقامات پر پابندیاں برقرار ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر گھوڑے والوں پر پڑا ہے۔

وحید احمد نے کہا کہ گھوڑے بان زیادہ تر پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ ایک برس کے دوران کئی افراد اپنے گھوڑے فروخت کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ گھریلو اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے گھوڑے والوں کے لئے راستے محدود کر دئے گئے ہیں، جس کے باعث سیاح گھوڑے پر سیر سے مطمئن نہیں ہو پاتے اور اس کا منفی پیغام باہر جاتا ہے، جو براہ راست پہلگام کی سیاحت کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے "ایک لائسنس، ایک گھوڑا" پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام میں گھوڑوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں جتنی ظاہر کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں تقریباً 1900 گھوڑے رجسٹرڈ ہیں جبکہ بے روزگاری کے باعث غیر رجسٹرڈ گھوڑوں سمیت مجموعی تعداد تقریباً 5000 تک پہنچتی ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد علاقے کی آبادی اور سیاحتی سرگرمیوں کے لحاظ سے زیادہ نہیں۔

وحید احمد نے بتایا کہ بیشتر گھوڑے بان پڑھے لکھے بے روزگار نوجوان ہیں، جن کے پاس روزگار کے محدود وسائل ہیں۔ انہوں نے حکومت خاص کر اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ "گھوڑے والوں کے تحفظ کے لئے ایک واضح اور منظم پالیسی مرتب کی جائے تاکہ ان کا ذریعہ معاش متاثر نہ ہو۔" انہوں نے تجویز دی کہ گھوڑے والوں کے لئے الگ پونی اسٹیشن قائم کئے جائیں، بند کیے گئے مقامات کو دوبارہ کھولا جائے اور "ایک لائسنس، دو گھوڑے" کی پالیسی نافذ کی جائے تاکہ ایک گھوڑا کام پر جبکہ دوسرا محفوظ رکھا جا سکے۔

ایسوسی ایشن کے صدر نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ پہلگام کے گھوڑے والوں نے ہمیشہ امرناتھ یاترا کے دوران اپنی خدمات انجام دی ہیں اور نامساعد حالات میں بھی یاترا کی کامیابی کے لئے بھرپور تعاون فراہم کیا، تاہم اس طبقہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سیاست دان انتخابات کے دوران وعدے کرتے ہیں لیکن ووٹ لینے کے بعد ووٹ دینے والوں کو ہی فراموش کر دیتے ہیں۔"

واضح رہے کہ حال ہی میں پی ڈی اے کی جانب سے ایک لائسنس ایک گھوڑا پالیسی نافذ کی گئی ہے۔پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر میر نصرالہلال جیری کے مطابق نئی پالیسی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، راستوں پر رش اور گھوڑوں کی غیر منظم نقل و حرکت کے باعث موصول ہونے والی شکایات کے پیش نظر نافذ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی لائسنس کے تحت متعدد گھوڑے چلانے سے بدنظمی اور حادثات کے امکانات بڑھ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا مقصد نظام کو شفاف بنانا، ہر آپریٹر کو جوابدہ بنانا اور سیاحوں کو محفوظ اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اسی کے تحت اب ہر رجسٹرڈ پونی آپریٹر صرف ایک گھوڑے کا مجاز ہوگا۔

انتظامیہ نے مزید اقدامات اٹھاتے ہوئے پونی آپریٹروں کے لئے وردی لازمی قرار دی ہے جبکہ گھوڑوں کے لئے مخصوص روٹس بھی متعین کئے گئے ہیں تاکہ رش اور بے ہنگم ٹریفک کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ان ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے چار خصوصی نفاذی ٹیمیں مختلف مقامات پر تعینات کی گئی ہیں۔

پونی آپریٹروں نے حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ سیاحتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی، خصوصاً گھوڑے بانوں کے معاشی مفادات کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. پہلگام میں ایک لائسنس ایک گھوڑا پالیسی نافذ، پونی آپریٹروں میں بے چینی، انتظامیہ سے نظر ثانی کی اپیل
  2. پہلگام میں مرکبان کی روزی متاثر، سیاحتی مقامات پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ
  3. پہلگام حملے کے آٹھ ماہ بعد بھی مرکبان بے روزگار