ETV Bharat / jammu-and-kashmir
عمر عبداللہ نے مغربی بنگال ریاست کا نام تبدیل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی
عبداللہ نے کہا، اگر مستقبل میں جموں کشمیر اسمبلی میں بھی ایسی ہی تجویز پیش کی جانی ہے تومرکز کو اس پر بھی غورکرنا چاہئے۔

By PTI
Published : February 25, 2026 at 2:36 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست کا نام تبدیل کرنے کے مغربی بنگال حکومت کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو مغربی بنگال حکومت کا مطالبہ قبول کرنا چاہیے۔ عمر عبداللہ نے یہ مطالبہ ایسے وقت کیا ہے جب مرکزی کابینہ نے منگل کو ریاست کا نام بدل کر کیرلام کرنے کی کیرالہ حکومت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔
کیرالہ حکومت کی تجویز کو منظوری کے بعد، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس بات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کی ریاست کا نام تبدیل کرنے کی تجویز مرکز کے پاس طویل عرصے سے زیر التوا ہے۔
#WATCH | Srinagar, J&K | On West Bengal Chief Minister Mamata Banerjee's proposal to rename West Bengal as ‘Bangla’, J&K CM Omar Abdullah says, " ...if the name of kerala can be changed, then why not of west bengal?... the central government should consider that request and if the… pic.twitter.com/qHigirf2Qf
— ANI (@ANI) February 25, 2026
سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، "دیگر ریاستوں نے بھی نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اگر مغربی بنگال اسمبلی ریاست کا نام تبدیل کرنا چاہتی ہے، تو مرکز کو یہ مطالبہ مان لینا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں جموں و کشمیر اسمبلی میں بھی ایسی ہی تجویز پیش کی جانی ہے تو مرکز کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔
وزیر اعلیٰ نے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن کا کشمیر کے پہلے دورہ پر خیرمقدم کیا۔ نائب صدر جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن میں شرکت کریں گے۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا، "وہ کانووکیشن میں شرکت کے لیے آج شام پہنچ رہے ہیں۔ طلبہ ان سے اپنی ڈگریاں اور تمغے وصول کرنے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"
اس سے قبل دن میں، وزیر اعلیٰ نے رعناواری چوک پر 'باب السلطان العارفین' کیلیگرافی گیٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پرانے شہر کو خوبصورت بنانے کی حکومت کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس طرح کے مقامات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور شہر کے اندرونی علاقوں کو فائدہ پہنچانے میں مدد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:

