ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشتواڑ میں کم عمر حاملہ کی موت: نرس پوچھ تاچھ کیلیے حراست میں
نابالغہ کے حمل کو ساقط کرنے کے دوران لڑکی کی موت کے معاملے میں پہلے ہی پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : August 28, 2026 at 6:39 PM IST
جموں (عامر تانترے): جموں و کشمیر پولیس نے کشتواڑ میں حاملہ نابالغ لڑکی کی موت اور مبینہ عصمت دری کے معاملے میں پانچ افراد کی گرفتاری کے بعد ایک نرس کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔
ذرائع نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ نرس، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کو ملزم فاروق احمد شیخ کے بیان کے بعد حراست میں لیا گیا۔ فاروق احمد ضلع اسپتال کشتواڑ میں کنٹریکٹ پر صفائی کا کام کرتا تھا اور اسے بدھ کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر مبینہ مجرمانہ سازش میں مرکزی ملزم خالد حسین اور اس کے بھائی طارق حسین کی مدد کرنے کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق نرس نے مبینہ طور پر متوفی نابالغ لڑکی کا حمل ختم کرنے کے لیے ادویات کا انتظام کیا اور اسے انجیکشن بھی لگایا۔ اس کے بعد لڑکی کی حالت بگڑ گئی اور خصوصی علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں منتقل کرتے وقت اس کی موت واقع ہو گئی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ’’نرس کو حراست میں لے کر مسلسل پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ مبینہ طور پر نرس نے فاروق احمد کے مشورے پر یہ کام کیا اور سینئر افسران کو اطلاع نہیں دی۔"
کیا ہے اصل معاملہ
یہ واقعہ 20 اگست کو پیش آیا جب 15 سے 16 سال کی عمر کی ایک نابالغ لڑکی کی موت ہوگئی۔ پوسٹ مارٹم کے دوران معلوم ہوا کہ وہ تقریباً پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد کشتوائ پولیس نے پولیس اسٹیشن چھاترو میں POCSO ایکٹ کی دفعات 4، 6، 8، 10 اور 17 کے علاوہ بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 61(2)، 65(1)، 90، 91 اور 92 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
بعد میں پولیس نے شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبس (پریونشن آف ایٹروسٹیز) ایکٹ کی دفعات 3(1)(w)(i)، 3(2)(v) اور 3(2)(va) بھی مقدمے میں شامل کیں۔ تحقیقات کے بعد پولیس نے سرکاری ٹیچر خالد حسین اور اس کے بھائی طارق حسین کو مبینہ مجرمانہ سازش کے الزام میں گرفتار کیا۔ خالد پر الزام ہے کہ اس نے اپنی طالبہ کو بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔
پولیس کے مطابق طارق نے مبینہ طور پر اس کا حمل ساقط کرنے کی سازش رچی، ادویات کا انتظام کیا اور اس سلسلے میں دیگر افراد کے ساتھ رابطہ بھی کیا۔ تحقیقات کے دوران جمعرات تک پولیس نے خالد حسین، طارق حسین، فاروق احمد، محمد اسحاق اور ریاض احمد سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی سربراہی کشتواڑ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ASP) پردیپ کمار کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیم نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
سابق رکن اسمبلی غلام محمد سروری نے متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد میں انہیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا فون بھی آیا۔ سروری کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے معاملہ شفاف تحقیقات کے لیے کرائم برانچ کے حوالے کرنے کی اپیل کی۔
ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے سروری نے کہا: ’’لیفٹیننٹ گورنر نے کرائم برانچ سے تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہمیں امید ہے کہ خاندان کو انصاف ملے گا۔ یہ ایک نابالغ لڑکی کے خلاف انتہائی سنگین جرم ہے اور اس کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔"
کانگریس رہنما نے کہا کہ کچھ لوگ اس معاملے کو گوجر بمقابلہ کشمیری بولنے والے افراد کا مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: "ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر کوئی مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جو لوگ اس بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں، انہیں علاقے سے نکال دینا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:
کشتواڑ نابالغ لڑکی عصمت دری اور موت کا معاملہ: ایس آئی ٹی نے مزید تین کو گرفتار کیا

