ETV Bharat / jammu-and-kashmir

مقامی فیس بک پورٹل کے خلاف نوٹس جاری، گرمائی تعطیلات سے متعلق طالب علم کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پے چھڑی بحث

کمیٹی نےنوٹس میں کہا کہ وہ اس حوالےسےجوئینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت 3 جون 12 بجےتک چلڈ ویلفیئر کمیٹی کے دفتر میں حاضر ہوں۔

مقامی فیس بک پورٹل کے خلاف نوٹس جاری، گرمائی تعطیلات سے متعلق طالب علم کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پے چھڑی بحث
مقامی فیس بک پورٹل کے خلاف نوٹس جاری، گرمائی تعطیلات سے متعلق طالب علم کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پے چھڑی بحث (Representational Image: ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 2, 2026 at 5:25 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر ( پرویز الدین ): چلڈ ویلفیئر کمیٹی نے ایک مقامی فیس بک پورٹل کے خلاف سخت نوٹس لیا ہے جس نے حال ہی ایک طالب علم کی جانب سے گرمائی تعطیلات سے متعلق دیئے گئے ردعمل کو اپ لوڈ کیا ہے۔ ایسے میں کمیٹی نے مذکورہ فیس بک نیوز پورٹل کے نام نوٹس جارہا کیا ہے ۔ جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گرمائی تعطیلات سے متعلق طالب علم کا دیا گیا ردعمل بغیر اسکول انتظامیہ یا والدین کی رضامندی یا اجازت سے کیسے اپ لوڈ کیا گیا۔

کمیٹی نے جاری کردہ نوٹس میں پورٹل سے کہا کہ وہ اس حوالے سے جوئینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت 3 جون 12 بجے تک چلڈ ویلفیئر کمیٹی کے دفتر میں حاضر ہوجائے اور معاملے سے متعلق اپنی وضاحت تحریری طود پیش کریں۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مزکورہ پورٹل کے رپورٹر، کمیرہ مین اور ایڈیٹر کو قصور وار پایا گیا تو بچوں کے تحفظ ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حال میں گرمائی تعطیلات نہ کئے جانے سے حوالے سے سرینگر کے ایک نجی اسکول کے طالب علم نے جموں وکشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو سے متعلق کچھ غلط الفاط استعمال کیا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر طالب علم کے غلط ردعمل پر کافی بحث چھڑ گئی ہے۔ سماجی ،مذہبی اور تعلیمی ماہرین طالب علم کی جانب سے دئے گئے ردعمل پر سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہیں وہ بچوں کی تربیت، اسکول انتظامیہ اور والدین کی تربیت پر کئی سوال کھڑا کر رہے ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا ہے کہ بچہ اپنے الفاظ کے نتائج کو پوری طرح سے نہیں سمجھ سکتا لیکن کسی بھی موضوع پر بات کرنے یا رائے دیتے وقت بچوں کے پاس بالغ فرد ہونا ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ احترام، نظم و ضبط اور تہذیب کے ساتھ رائے کا اظہار کرنے کا طریقہ سکھائیں۔ اس سے بھی زیادہ مایوس کن کچھ نام نہاد صحافیوں کا رجحان ہے کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینے کے بجائے اس طرح کے ویڈیوز کو سنسنی خیز بنا دیتے ہں۔ بچوں کو کبھی بھی نفرت پھیلانے یا وائرل شہرت حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

نیشنل کانفرنس کی ترجمان افرا جان نے اس حوالے سے اپنے ایک ٹیوٹ میں لکھا ہے کہ بہت سے لوگ اس کے والدین پر الزام لگا رہے ہیں۔ میں متفق نہیں ہوں۔ ہم سب نے اجتماعی طور پر بچوں کو سکھایا ہے کہ خواتین سیاستدانوں کی بے عزتی اور تذلیل کیسے کی جاتی ہے اور بچے تیزی سے سیکھتے ہیں۔ ہم حیران کیوں ہیں۔

سنئیر صحافی یوسف جمیل نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ اسکولی لڑکےکی طرف سے دئیے گئے ریمارکس جو اس کی ماں بننے کے لیے کافی عمر کے فرد پر کیے گئے تھ۔ بنیادی پرورش اور سماجی اقدار میں ایک پریشان کن کوتاہی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ویڈیو کو لفظی طور پر عوامی ڈومین میں اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ بھی اتنا ہی ظاہر کر رہا ہے۔ یہ عمل صرف بچے کی بد سلوکی کو بڑھاوا نہیں دیتا ہے۔ یہ رپورٹر کے اپنے پیشہ ورانہ دیوالیہ پن کو بے نقاب کرتا ہے، صحافت کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے بجائے سنسنی خیزی کی گردش میں کم کرتا ہے۔