ETV Bharat / jammu-and-kashmir

طالب علم پر عائد پی ایس اے کالعدم، ہائی کورٹ نے فوری رہائی کا حکم جاری کیا

جموں کشمیر ہائی کورٹ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جنوبی کشمیر کے ایک طالب علم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا۔

ا
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team

Published : March 26, 2026 at 4:57 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے ضلع اننت ناگ کے 19 سالہ طالب علم کی 'احتیاطی حراست' کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ "پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت دیا گیا حکم ٹھوس ثبوت کے بغیر اور 'بے بنیاد شبہات' پر مبنی تھا۔" جسٹس راہل بھارتی نے 16 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں سہران بشیر نداف نامی نوجوان کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا۔ سہران کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ضلع اننت ناگ کے شیرپورہ علاقے کے رہنے والے سہران نے اپنی والدہ نعیمہ اختر کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا۔ ان کی طرف سے وکیل سید سجاد گیلانی پیش ہوئے جبکہ سرکاری وکیل الیاس لاوے نے حکومت کی نمائندگی کی۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ نداف بارہویں جماعت کے طالب علم ہیں اور آن لائن طریقے سے NEET امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کا نام 2023 میں ایک غیر مقامی مزدور دیپک کمار کے قتل سے متعلق ایف آئی آر میں آیا تھا۔ واقعے کے وقت نداف کم عمر تھے اور بعد میں جوینائل جسٹس بورڈ، اننت ناگ نے 4 فروری 2025 کو انہیں ضمانت دے دی تھی۔

عدالت نے کہا کہ اس ایک ایف آئی آر کے علاوہ نداف کے خلاف کوئی منفی یا مشکوک ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ضمانت کے تین ماہ کے اندر، ضلع مجسٹریٹ اننت ناگ نے 14 مئی 2025 کو ان کی حراست کا حکم جاری کیا، جس کی بنیاد پولیس کی رپورٹ تھی۔ بعد میں انہیں جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں رکھا گیا۔

حکام کا دعویٰ تھا کہ رہائی کے بعد بھی نداف ریاست کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہے، لیکن عدالت کو اس کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت نہیں ملا۔ جسٹس راہول بھارتی نے کہا کہ 4 فروری سے 18 مئی 2025 کے درمیان کا عرصہ ہی اہم تھا، اور اس دوران بھی کوئی ایسا مواد سامنے نہیں آیا جو حراست کو جائز ٹھہرائے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ حراست کی وجوہات تقریباً وہی ہیں جو پولیس کی رپورٹ میں تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے پر صحیح طریقے سے غور نہیں کیا گیا۔ جج نے کہا کہ "سادہ الفاظ میں، درخواست گزار کو بغیر کسی مضبوط بنیاد کے محض شک کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا۔"

انہوں نے آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت شہری کی ذاتی آزادی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے بے بنیاد شبہات کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے 14 مئی 2025 کے حراستی حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کر دیا اور فوری طور پر رہائی کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. ہائی کورٹ نے آئنسٹائن کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایس اے کیا کالعدم
  2. معراج ملک پی ایس اے کیس: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی