ETV Bharat / jammu-and-kashmir
این آئی اے نے لشکر طیبہ کے بین ریاستی دہشت گردی کے ماڈیول سے متعلق معاملے کی جانچ سنبھالی
عدالت نے دو پاکستانی شہریوں کو دو روزہ ریمانڈجبکہ تین مقامی ملزمان کو 15 روزہ ریمانڈپر این آئی اے کے حوالے کرنےکا حکم دیا ہے۔

Published : April 27, 2026 at 10:48 PM IST
جموں: (اشرف غنائی) نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے حال ہی میں ایک بین ریاستی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کرنے سے متعلق کیس کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دو پاکستانی شہریوں سمیت پانچ گرفتار دہشت گردوں کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ معاملہ 7 اپریل کو جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے کی گئی ایک بڑی کارروائی سے متعلق ہے۔ جس دوران پانچ لشکرِ طیبہ کے کارندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتار افراد میں عبداللہ عرف ابو حریرہ بھی شامل ہے، جو گزشتہ 16 برسوں سے مفرور تھا اور اس پر یونین ٹیریٹری سے باہر دہشت گردی کے اڈے قائم کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دیگر گرفتار شدگان میں ایک اور پاکستانی دہشت گرد عثمان عرف خبیب کے علاوہ سرینگر کے رہائشی محمد نقیب بٹ، عادل رشید اور غلام محمد میر عرف ماما شامل ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں سے انجام دی گئی۔ ابتدائی تفتیش میں لشکرِ طیبہ کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو دہشت گردوں کو لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کرنے میں ملوث تھا۔ مزید تفتیش کے ذریعے اس نیٹ ورک کے دیگر روابط اور سرگرمیوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
این آئی اے نے کیس اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد تمام گرفتار ملزمان کو پیر کے روز جموں میں خصوصی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے پانچوں ملزمان کو ایجنسی کی تحویل میں دے دیا۔ عدالت نے دو پاکستانی شہریوں کو دو روزہ ریمانڈ جبکہ تین مقامی ملزمان کو 15 روزہ ریمانڈ پر این آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

