ETV Bharat / jammu-and-kashmir
تین کشمیری اشتہاری مجرم قرار، این آئی اے کورٹ نے اکتیس جنوری تک پیش ہونے کا دیا حکم
عدالت نے ملزمین کو 31 جنوری 2026 تک پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ورنہ ان کی جائیداد ضبط جیسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

Published : December 30, 2025 at 7:10 PM IST
سرینگر: نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کے تحت نامزد ایک خصوصی عدالت نے کشمیر کے تین رہائشیوں کو ’اشتہاری‘ قرار دینے کا باقاعدہ حکم جاری کیا ہے۔ ان تینوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سماجی رابطہ گاہوں پر بھارت مخالف پروپیگنڈہ اور نفرت پھیلائی ہے۔
این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سیکشن 82 کے تحت تینوں کو ’’اشتہاری مجرم‘‘ (proclaimed offenders ) قرار دیا ہے۔ یہ مقدمہ 2020 کی ایک ایف آئی آر نمبر 07 کے تحت کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ملزمین کی جانب سے ’’جان بوجھ کر عدالتی کارروائی سے بچنے‘‘ کے بعد یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔
PHOTO | The Special NIA Court in Srinagar has issued a proclamation under Section 82 CrPC against accused in a CIK case for anti-national propaganda. The case involves allegations of spreading fake and secessionist content through social media to incite unrest. The accused have… pic.twitter.com/moP4N8ldG3
— Press Trust of India (@PTI_News) December 30, 2025
جائیداد ضبط کرنے جیسے سخت اقدامات
عدالت نے ملزمین کو 31 جنوری 2026 تک خود کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’’اگر وہ (کورٹ میں) پیش نہیں ہوئے تو سیکشن 83 کے تحت ان کی جائیداد ضبط کرنے جیسے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘‘
اشہاری قرار دیے گئے افراد میں (1) مبین احمد شاہ ولد مرحوم علی محمد شاہ ساکن جواہر نگر، سرینگر، (2) عزیز الحسن اشائی (المعروف ٹونی اشائی) ولد نذیر احمد اشائی، ساکن جواہر نگر اور (3) رفعت وانی دختر غلام محمد وانی ساکن ترہگام، کپوارہ شامل ہیں۔
فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ سوشل میڈیا پر مربوط مہم
کاؤنٹر انٹیلی جنس، کشمیر، کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ تینوں افراد فیس بک، ایکس (سابق ٹویٹر) اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پر مربوط مہم چلا رہے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان کے ذریعے شیئر کیا گیا مواد جعلی، مبالغہ آرائی سے پُر یا سیاق و سباق سے بالکل بالاتر تھا اور اس مواد کو شیئر کرنے کا مقصد ہنگامے، معمول کی زندگی میں خلل، عوامی املاک کو نقصان اور امن و امان کو خراب کرنے جیسے مقاصد تھے۔
ذرائع کے مطابق تینوں ملزمین کے خلاف پہلے غیر قابل ضمانت وارنٹ (نال بیلیبل وارنٹ (Non Bailable Warrant) جاری کیے گئے تھے، لیکن ملزمین عدالت میں حاضر نہ ہوئے اور گھر سے غائب ہو گئے۔ قانونی کوششوں کے باوجود ان کی موجودگی کا پتہ نہ چل سکا جس کے بعد اشہاری کارروائی شروع کی گئی۔
سوشل میڈیا پر غلط اور اشتعال انگیز مواد
حکام کے مطابق ’’حالانکہ تینوں غائب قرار دیے جا چکے ہیں، مگر وہ آن لائن سرگرم ہیں اور سوشل میڈیا پر غلط اور اشتعال انگیز مواد پوسٹ کر رہے ہیں۔‘‘ پولیس کا کہنا ہے کہ مبین شاہ اور عزیز اشائی سرینگر شہر کے رہائشی ہیں اور وہ مقامی سطح پر آن لائن مواد تیار کرنے اور اسے شیئر کرنے میں ملوث ہیں، جب کہ رفعت وانی کئی پلیٹ فارمز پر پیغامات اور پوسٹس شیئر کرتی رہی ہے۔
کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر کی سخت قانونی کارروائی
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں اور عوامی جذبات کو متاثر کرنے کی کوشش کا ایک حصہ تھیں۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور ملک مخالف مواد پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھے گا۔

