ETV Bharat / jammu-and-kashmir

جموں کشمیر: بجلی کے مجوزہ اضافی نرخوں پر روک، گھریلو صارفین کو راحت

حکومت نے گھریلو بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے پرانے نرخوں کو ہی برقرار رکھا ہے۔ تاہم بڑے صنعتی ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں۔

۱
علامتی تصویر (فائل فوٹو)
author img

By Moazum Mohammad

Published : January 1, 2026 at 6:11 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر: جموں و کشمیر میں گھریلو بجلی صارفین کے لیے نئے سال سے بھی پرانے بجلی نرخ ہی لاگو رہیں گے۔ نئے Tariff of the Day (ToD) سسٹم کے تحت مجوزہ 20 فیصد اضافی چارج کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گھریلو اور عام صارفین کو سبسڈی والی بجلی بدستور فراہم کرتی رہے گی اور نیا ٹیرف لاگو نہیں کیا جائے گا۔

تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بڑے صنعتی یونٹس کو سبسڈی نہیں دی جائے گی، کیونکہ ان کی بجلی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اور حکومت کو یہ بجلی مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے۔ یہ فیصلہ مالی سال 2025-26 کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ گھریلو صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور انہیں سرد موسم میں بھی کچھ ریلیف مل سکے۔

گزشتہ برس جموں کشمیر محکمہ بجلی (KPDCL) نے جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (JERC) میں ایک درخواست دی تھی جس میں صبح اور شام کے اوقات میں صارفین پر 20 فیصد اضافی چارج بڑھانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ درخواست کے مطابق ’’پیک آورز‘‘ یعنی 6 سے 9 بجے صبح اور 5 سے 10 بجے شام تک گھریلو، صنعتی اور سرکاری اداروں سمیت تقریباً سبھی صارفین سے اضافی چارج لینے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم زراعت کے شعبے کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

JERC کے چیئرمین راج کمار چودھری نے حکومت کی اس تجویز کو قبول کر لیا ہے کہ وہ بجلی کمپنیوں کے مالی خسارے کو گرانٹ ان ایڈ کے ذریعے پورا کرے گی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جن کے پاس بجلی کا قلمدان بھی ہی ہے، نے ایک خط کے ذریعے کمیشن کو بتایا کہ حکومت جموں اور کشمیر کی دونوں بجلی کمپنیوں کے ریونیو گیپ کو خود پورا کرے گی۔

البتہ حکومت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بڑے صنعتی یونٹس کو سبسڈی نہیں ملے گی، کیونکہ ان کے لیے بجلی زیادہ نرخوں پر خریدنی پڑتی ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال 2025-26 میں گھریلو اور دیگر عام صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، جبکہ صرف بڑے صنعتی اداروں کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

پیک آورز میں اضافی نرخ وصول کرنے کے مجوزہ فیصلے پر پہلے ہی کشمیر کے تاجروں اور صنعت کاروں، خاص طور پر KCCI نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ سردیوں میں وادی کو بجلی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ دریاؤں میں پانی کم ہونے سے ہائیڈرو پاور پیداواری صلاحیت 150 سے 200 میگاواٹ تک گر چکی ہے اور جموں و کشمیر اپنی 90 فیصد سے زیادہ بجلی درآمد کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

  1. عمر عبداللہ کا بجلی کی پیداوار میں کمی کا اعتراف، عوام سے ’بجلی کا منصفانہ استعمال‘ کی اپیل
  2. بجلی فیس میں اضافہ عوام کش فیصلہ: وحید پرہ