ETV Bharat / jammu-and-kashmir
پلوامہ کے بازار میں من مانے دام، سرکاری ریٹ لسٹ غائب، رمضان المبارک میں عوام پریشان
پلوامہ کے بازاروں میں سرکاری ریٹ لسٹ جاری نہیں ہونے کی وجہ سے تاجر اشیاء ضروریہ کی من مانی قیمت وصول رہے ہیں۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 24, 2026 at 3:09 PM IST
پلوامہ (سید عادم مشتاق): مقامی بازار میں اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں بے ضابطگیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ ایک ہی شے مختلف دکانوں پر مختلف نرخوں میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ بیشتر دکانوں پر سرکاری ریٹ لسٹ آویزاں نہیں ہے۔ اس صورتحال نے صارفین کو تذبذب اور بے بسی میں مبتلا کر دیا ہے۔
اگرچہ محمکہ فوڈ اینڈ سپلائیز سبھی اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں کو طے کرتا تھا تاکہ قیمتوں کو اعتدال میں رکھا جائے اور عام شہری اپنی ضروریات کو پورا کرسکے تاہم کچھ سال قبل محمکہ کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ کوئی ریٹ لیسٹ جاری نہ کریں جس کے بعد سے ہی قیمتوں میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
پہلے محمکہ فوڈ اینڈ سپلائیز، فوڈ سیفٹی ،محمکہ مال اور دیگر ٹیمیں باقاعدگی سے بازاروں کا معائنہ کرتی تھیں اور سرکاری ریٹ لسٹ جاری کر کے اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جاتا تھا۔ لیکن اب بازاروں میں ریٹ لسٹ ہی نہیں ہے تو ٹیمیں بھی بازاروں میں کیا چیکنگ کریں گی۔ اب تو حالات یہ ہیں کہ تاجر انجمن کی جانب سے بھی تاحال کوئی مستند ریٹ لسٹ جاری نہیں کی گئی، جس کا خاصا اثر بازاروں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اس سلسلے میں مزمل منظور نے بات کرتے ہوئے کہا کہ، رمضان کے اس مقدس مہینے کے دوران اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو ایک عام صارف کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا قیمتوں میں بے ضابطگیوں کا اثر زیادہ تر غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور طبقے پر پڑ رہا ہے۔
اس سلسلے میں سماجی کارکن محمد الطاف بٹ نے کہا کہ، قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر مختلف قیمتوں میں چیزوں کو فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ ایک ہی بازار میں میوہ جات یا سبزیاں الگ الگ قیمتوں پر فروخت کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
انہوں نے ضلع انتظامیہ پلوامہ سے اپیل کی کہ وہ سرکاری ریٹ لسٹ جاری کر کے ہر دکان پر اس کو آویزاں کرنے کو لازمی قرار دیں تاکہ من مانے داموں پر فروخت پر لگام لگائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:

