ETV Bharat / jammu-and-kashmir
نو گھنٹہ اجلاس کے بعد این سی نے کیا دہلی میں احتجاج کرنے کا فیصلہ، ریاستی درجہ اولین ترجیح قرار
این سی اراکین نے سرینگر کے مضافات میں واقع داچھی گام نیشنل پارک میں معنقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ لیا۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : June 3, 2026 at 8:40 PM IST
|Updated : June 3, 2026 at 8:53 PM IST
سرینگر (جاوید ڈار) : نیشنل کانفرنس (این سی) کے اراکین اسمبلی، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی روانہ ہوں گے جہاں وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ بحال کرنے اور عوام کے لیے آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کریں گے۔ اس بات کی اطلاع نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور ایم ایل اے زڈی بل، تنویر صادق نے داچھی گام پارک میں منعقد ہوئے لیجسلیٹیو اجلاس کے اختتام پر میڈیا نمائندوں کو دی۔
تنویر صادق نے کہا کہ "یہ فیصلہ نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت کی صدارت میں منعقدہ ایک طویل اجلاس میں لیا گیا۔" اس اجلاس میں پارٹی نے جموں و کشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے اپنی سیاسی مہم مزید تیز کرنے کا عزم کیا۔ یاد رہے کہ اس اجلاس کے لیے اراکین اسمبلی سمیت پارلیمنٹ ممبران کو بھی مدعو کیا گیا تھا، گرچہ گزشتہ روز جاری کیے گئے دعوت نامے میں عمر عبداللہ کی رہائش گاہ واقع گپکار، سرینگر کو ہی میٹنگ مقام کے طور پر منتخب کیا گیا تھا تاہم آج صبح اچانک پروگرام میں تبدیلی لاکر سرینگر کے مضافات میں واقع داچھی گام نیشنل پارک میں میٹنگ منعقد کی گئی۔
اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ "پارٹی، قومی دارالحکومت میں اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائے گی کیونکہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کی واپسی کے حقدار ہیں۔"
انہوں نے کہا، "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وہ حقوق واپس حاصل کریں جو ہم سے چھین لیے گئے ہیں۔" تنویر صادق نے زور دے کر کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی پارٹی کی اولین سیاسی ترجیح ہے۔
کابینہ کی توسیع کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تنویر صادق نے کہا: "وہ عمر عبداللہ کے دائرہ اختیار میں ہے، جب وہ چاہیں اس ضمن میں فیصلہ لے سکتے ہین۔"
یاد رہے کہ اجلاس تقریباً نو گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد پارٹی رہنماؤں نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو مزید مضبوط انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دریں اثناء، حزب اختلاف سمیت دیگر سیاسی اراکین کی جانب سے اس اجلاس کے حوالہ سے کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، جن میں این سی کے مابین داخلی خلفشار، کابینہ توسیع سے متعلق باتیں کی جا رہی تھیں جس سے متعلق پوچھے جانے پر تنویر صادق نے کہا: "جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں، ان ہی سے پوچھ لیں۔"
یہ بھی پڑھیں:

