ETV Bharat / jammu-and-kashmir

پلوامہ میں بھائی چارے کی زندہ مثال، کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش

کشمیری پنڈت شام لال دھر کے انتقال کے بعد مقامی مسلمان مرد و خواتین ان کے آبائی گھر پہنچے اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔

پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش
پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : June 3, 2026 at 4:04 PM IST

|

Updated : June 3, 2026 at 5:16 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

پلوامہ: (سید عادل مشتاق) انسانیت کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی رنگ و نسل۔ انسانیت تو صرف انسانیت ہوتی ہے، اور اسے ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں نے زندہ کر دکھایا ہے۔ کشمیری مسلمانوں نے اپنے ہندو پنڈت بھائی شام لال دھر کی آخری رسومات میں شرکت کرکے ایک بار پھر کشمیر کے روایتی بھائی چارے کی مثال قائم کی۔

پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش (ETV Bharat)

اس کی ایک تازہ مثال جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے پنگلینہ علاقے میں دیکھنے کو ملی، جہاں کشمیری پنڈت شام لال دھر کے انتقال کے بعد علاقے کے مسلمان مرد و خواتین ان کے آبائی گھر پہنچے، اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور غم کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اسی کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی میں بھی مقامی مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔

پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش
پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش (ETV Bharat)

اس حوالے سے مقامی مسلمان اشتیاق احمد نے کہا کہ کشمیر میں آج بھی وہ بھائی چارہ زندہ ہے جو صدیوں سے یہاں کی شناخت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں خراب حالات کے باعث پنگلینہ کے بیشتر پنڈت خاندان وادی چھوڑ کر چلے گئے، تاہم شام لال دھر اور ان کے اہلِ خانہ نے کبھی کشمیر نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بھائی چارہ ملک میں کہیں اور کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

فاروق احمد نے اس موقعے پر کہا کہ پنگلینہ میں تقریباً 50 پنڈت خاندان آباد تھے، لیکن نامساعد حالات کے باعث بیشتر خاندان نقل مکانی کر گئے۔ تاہم شام لال دھر اور ان کے اہلِ خانہ وادی میں ہی مقیم رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم اپنے ہندو مسلم بھائی چارے کو یاد کرتے ہیں تو ہماری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش
پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش (ETV Bharat)

قابلِ ذکر ہے کہ اس علاقے میں کبھی متعدد کشمیری پنڈت خاندان آباد تھے، جن میں سے اکثر بعد میں وادی چھوڑ کر چلے گئے، تاہم یہاں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کی روایت آج بھی برقرار ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1990 کی دہائی میں نامساعد حالات کے باعث ہزاروں کشمیری پنڈت اپنے گھروں کو چھوڑ کر وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ملک کے مختلف حصوں میں جا بسے، لیکن اس کے باوجود کشمیر کے صدیوں پرانے بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی۔

پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش
پلوامہ میں کشمیری پنڈت کی آخری رسومات میں مسلمان پیش پیش (ETV Bharat)

آج بھی وادی میں کئی کشمیری پنڈت مسلمان خاندانوں کے ہمسایہ ہیں، جو ایک دوسرے کے دکھ سکھ، خوشی اور غم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ عید ہو یا دیوالی، کشمیر کی یہ مشترکہ تہذیب اور بھائی چارہ آج بھی قائم و دائم ہے۔

Last Updated : June 3, 2026 at 5:16 PM IST