ETV Bharat / jammu-and-kashmir
کشمیر میں مسلسل خشک موسم سے کسان پریشان، ماہرین کا نمی کے تحفظ کا مشورہ
کشمیر میں اب تک معمول سے کافی کم بارش اور برفباری ہوئی ہے جس سے کسان و باغبان کافی پریشان ہیں۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : January 10, 2026 at 7:08 PM IST
پلوامہ (سید عادل مشتاق) : وادی کشمیر گزشتہ کئی ماہ سے شدید خشک سالی کی زد میں ہے، جس کے باعث وادی کے کئی بڑے قدرتی آبی ذخائر تیزی سے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ برف و باراں نہ ہونے یا انتہائی کم ہونے کے سبب آنے والے سیزن میں کسانوں، باغبانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر عوام خاص کر کسانوں کے لیے ایڈوائزریز جاری کی گئی ہے اور کسانوں سے نمی کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات گزشتہ چند برسوں سے وادی میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جو زرعی اور باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے تشویش کا سبب بن چکے ہیں۔
خشک موسم کی وجہ سے ہر سال کاشتکاری کے دوران کسانوں کو آبپاشی کے مسائل سے جوجھنا پڑتا ہے، جس کا براہ راست اثر نہ صرف کسانوں کی آمدن بلکہ وادی کی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔
وادی کشمیر جو نہ صرف اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور سرد موسم کے لیے جانی جاتی ہے، بلکہ بیش بہا قدرتی آبی ذخائر کے لیے بھی مشہور ہے، تاہم اسی وادی گلپوش میں آج پینے کے پانی اور آبپاشی کے لیے لوگوں کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ موسمی عدم توازن نے حالات کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ رواں سیزن ’’چلہ کلاں‘‘ کے دوران بھی وادی کی بیشتر چراگاہیں اور فلک بوس پہاڑ بھی برف سے محروم دکھائی دے رہی ہیں۔
معمول سے انتہائی کم بارشوں اور برفباری کی وجہ سے ممکنہ طور پر آئندہ سیزن آبپاشی کے مسائل ہو سکتے ہیں جس کے پیش نظر حکام نے عوام خاص کر کسانوں کو مشوروں سے نوازا ہے۔

چیف ہارٹیکلچر آفیسر، پلوامہ، ریاض احمد شاہ نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو باغبانی شعبے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘ انہوں نے عوام سے قدرتی آبی وسائل کا تحفظ یقینی بنائے جانے کی اپیل کی ’’تاکہ کاشتکاری کے عروج کے موسم میں ان وسائل کو آبپاشی کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔‘‘
ایگریکلچر ایکسٹینشن آفیسر، پلوامہ، اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ ’’موجودہ حالات میں زرعی اور باغبانی پیداوار کو محفوظ رکھنے کا مؤثر طریقہ مٹی میں نمی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔‘‘ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کھیت کھلیانوں میں ملچنگ پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ زمین میں نمی برقرار رہے اور فصلیں خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ’ملچنگ‘ خالی زمین کو گھاس پھوس یا پھول پتوں وغیرہ سے ڈھکنے کے عمل کو کہا جاتا ہے تاکہ اراضی کی نمی برقرار رہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ وادی کشمیر کی بیشتر آبادی اپنی روزی روٹی کے لیے زرعی اور باغبانی شعبے پر انحصار کرتی ہے۔ اگر ماحولیاتی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف کسانوں بلکہ وادی کی مجموعی معیشت پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔
وہیں اس سال غیر معمولی حد تک درجہ حرارت میں گراوٹ نے کسانوں اور باغبانوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ طویل خشک موسم اور بارشیں نہ ہونے سے فصلوں اور پیداوار کو کم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

