ETV Bharat / jammu-and-kashmir
جدید گریڈنگ اور پیکنگ ٹیکنالوجی سے سیب صنعت میں نئی تبدیلی، معیار، قیمت، روزگار اور تجارت کے نئے امکانات روشن
جدید مشینی گریڈنگ اور پیکنگ ٹیکنالوجی سے سیب کو سائز، معیار اور دیگر پیمانوں کے مطابق الگ اور پیک کیا جاتا ہے۔


Published : August 26, 2026 at 12:42 PM IST
اننت ناگ(میر اشفاق): وادی کشمیر میں سیب اتارنے کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ سیب کی فصل کو تیار کرنے کے لیے کاشتکاروں کو سال بھر سخت محنت اور مسلسل دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے، تاہم اپنی پیداوار کو بہتر قیمت دلانے کے لیے گریڈنگ اور پیکنگ کا آخری مرحلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ماضی میں سیب کی درجہ بندی اور پیکنگ زیادہ تر روایتی اور دستی طریقوں سے کی جاتی تھی، جس میں نہ صرف وقت اور محنت زیادہ درکار ہوتی تھی بلکہ یکساں معیار کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اب اس پورے عمل کو آسان، تیز، منظم اور زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔
جدید مشینی گریڈنگ اور پیکنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے سیب کو سائز، معیار اور دیگر ضروری پیمانوں کے مطابق الگ کیا جاتا ہے، جس کے بعد یکساں معیار کے پھل کو بہتر اور معیاری انداز میں پیک کر کے منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس جدید نظام سے نہ صرف سیب کی مارکیٹ ویلیو اور مانگ میں بہتری کے امکانات پیدا ہوتے ہیں بلکہ فصل کی اترائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور کاشتکاروں کو بہتر منافع دلانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

باغبانی کشمیر کی دیہی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جس سے ہزاروں خاندان براہ راست اور بالواسطہ طور پر وابستہ ہیں۔ سیب کی کاشت کے علاوہ پیکنگ، نقل و حمل، کولڈ اسٹوریج، تجارت اور مزدوری سمیت متعدد شعبے بھی اس صنعت سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم اعلیٰ معیار کی پیداوار کے باوجود مناسب گریڈنگ اور معیاری پیکنگ کی سہولیات کی محدود دستیابی کے باعث کاشتکاروں کو طویل عرصے سے اپنی محنت کا مکمل معاشی فائدہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

باغبانی شعبے سے وابستہ ماہرین اور تاجروں کا کہنا ہے کہ جدید گریڈنگ ٹیکنالوجی ان دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جدید گریڈنگ لائنوں کے ذریعے سیب کی مشینی طریقے سے درجہ بندی کی جاتی ہے، جس سے مختلف سائز اور معیار کے سیب الگ ہو جاتے ہیں اور خریداروں کو یکساں معیار کی پیداوار دستیاب ہوتی ہے۔ مناسب گریڈنگ اور پیکنگ سے خریداروں کے لیے پھل کے معیار کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھتا ہے اور بہتر قیمت حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔
وادی کے مختلف علاقوں میں جدید ایپل گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں بعض منصوبوں کو سرکاری معاونت بھی حاصل ہے۔ ماضی میں ایسی جدید سہولیات زیادہ تر بڑے کولڈ اسٹوریج اور کنٹرولڈ ایٹموسفیر، یعنی سی اے، مراکز تک محدود تھیں، تاہم مقامی سطح پر پورٹیبل گریڈنگ یونٹس کے قیام سے اب چھوٹے اور درمیانہ درجے کے باغ مالکان کے لیے بھی اس جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ممکن ہوتا جا رہا ہے۔

صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ جدید گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس اب محض سیب کی درجہ بندی کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے اور نئے کاروباری مواقع فراہم کرنے والے مراکز کے طور پر بھی ابھر رہے ہیں۔ ان یونٹس کے ذریعے مشین آپریٹرز، پیکنگ، لوڈنگ، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ہنرمند اور نیم ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ پیکنگ مواد، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کاری سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

اننت ناگ میں ایک گریڈنگ لائن یونٹ سے وابستہ شاکر اشرف کا کہنا ہے کہ جدید گریڈنگ ٹیکنالوجی کے ذریعہ سیب کو زیادہ منظم اور سائنسی انداز میں مارکیٹ کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مناسب طریقے سے گریڈ اور پیک کیا گیا سیب بہتر حالت میں اور نسبتاً کم وقت میں منڈی تک پہنچتا ہے، جبکہ معیاری پیکنگ خریداروں کی توجہ حاصل کرنے اور بہتر قیمت ملنے کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔

شاکر اشرف کا کہنا ہے کہ ان کے یونٹ سے نہ صرف انہیں اپنا روزگار حاصل ہوا ہے بلکہ کئی دیگر افراد کو بھی کام ملا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ان کے پاس چالیس سے زائد افراد مختلف کاموں سے وابستہ ہیں، جو اس یونٹ کے ذریعے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے مزید گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس قائم کیے جائیں تو مقامی سطح پر روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

پیکنگ مزدوروں کے ٹھیکیدار لیاقت علی کا کہنا ہے کہ گریڈنگ یونٹ پر روزانہ تقریباً پینتیس سے چالیس مزدور پیکنگ کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں زیادہ تر مزدور کولڈ اسٹوریج یا سی اے اسٹورز میں پیکنگ کا کام کرتے تھے، تاہم اب اس طرح کے گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس گاؤں اور دیہی علاقوں میں بھی قائم ہو رہے ہیں، جس سے پیکرز اور دیگر مزدوروں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
لیاقت علی کے مطابق ان یونٹس کے قیام سے روزگار کے دائرے کو کافی وسعت مل رہی ہے، جبکہ معیاری گریڈنگ اور پیکنگ سے کاشتکاروں کو بھی اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
کاشتکار بھی جدید ٹیکنالوجی کو سیب اتارنے کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی لانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مقابلہ کے مارکیٹ میں صرف معیاری سیب پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ فصل کی کٹائی کے بعد اس کی مناسب گریڈنگ، پیکنگ، ذخیرہ کاری اور بروقت نقل و حمل بھی یکساں طور پر ضروری ہے۔
اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے کاشتکار اعجاز احمد بخشی کا کہنا ہے کہ جدید گریڈنگ ٹیکنالوجی روایتی دستی گریڈنگ اور پیکنگ کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر ہے۔ دستی طریقے میں زیادہ وقت اور افرادی قوت درکار ہوتی ہے، جبکہ یکساں معیار کو برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جدید مشینی نظام اس عمل کو زیادہ منظم بنانے کے ساتھ ساتھ پھل کو غیر ضروری نقصان سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔
اعجاز احمد بخشی نے کہا کہ اب تک انہوں نے اپنی سیب کی فصل گریڈنگ یونٹس پر پیک کروائی ہے، جس سے ان کا مال بروقت منڈی تک پہنچا اور انہیں مناسب قیمت بھی حاصل ہوئی۔ ان کے مطابق اس جدید نظام سے انہیں روایتی دستی گریڈنگ اور پیکنگ کی دشواریوں سے بھی کافی حد تک نجات ملی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے نوجوانوں کو بھرپور معاونت فراہم کی جائے۔
مشین آپریٹر مشتاق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس سے نہ صرف غیر ہنرمند بلکہ ہنرمند افراد کو بھی روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریڈنگ لائن کے قیام کے بعد انہیں اپنے ہی علاقے میں معقول روزگار ملا ہے۔
مشتاق احمد ڈار کے مطابق ماضی میں جدید گریڈنگ اور پیکنگ سہولیات کی محدود دستیابی کشمیر کے سیب کاشتکاروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھی، کیونکہ اس طرح کی مشینیں زیادہ تر کولڈ اسٹوریج اور بڑے سی اے مراکز تک محدود تھیں۔ کئی مرتبہ اعلیٰ معیار کی پیداوار ہونے کے باوجود مناسب درجہ بندی اور پیکنگ نہ ہونے کی وجہ سے سیب کی مارکیٹ ویلیو متاثر ہوتی تھی۔ تاہم جدید گریڈنگ یونٹس میں اضافے کے ساتھ سیب پیدا کرنے والے مختلف علاقوں کے درمیان موجود یہ فرق بتدریج کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
سیب کے تاجر جتیندر کا کہنا ہے کہ پہلے وہ زیادہ تر منڈیوں میں سیب کی خریداری کرتے تھے، تاہم جدید گریڈنگ اور پیکنگ لائنوں کے قیام کے بعد اب وہ براہ راست ان یونٹس پر بھی مال کی خریداری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید گریڈنگ اور معیاری پیکنگ سے کشمیر کے سیب کو ملکی مارکیٹوں میں مزید مضبوط اور مستقل شناخت حاصل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکساں معیار کے مطابق سیب کی درجہ بندی سے خریداروں کو پیداوار کے معیار کا واضح اندازہ ہوتا ہے اور تاجروں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے، جس سے تاجر اور کاشتکار دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید گریڈنگ ٹیکنالوجی کے فوائد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باغبانی کے پورے سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے سائنسی ذخیرہ کاری، معیاری پیکنگ، مؤثر اور کم لاگت نقل و حمل، جدید مارکیٹنگ نظام اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط ناگزیر ہیں۔
ہارٹیکلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ کے ایریا مارکیٹنگ افسر،(اے ایم او) مشتاق احمد، کا کہنا ہے کہ جدید ایپل گریڈنگ اور پیکنگ ٹیکنالوجی کشمیر کے باغبانی شعبے کے لیے محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور تجارتی تبدیلی کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اس جدید نظام سے سیب کے معیار اور مارکیٹ ویلیو میں بہتری، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور کاشتکاروں کو بہتر منافع ملنے کی توقع ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ ٹیکنالوجی وادی میں روزگار اور نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہالسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام، یعنی ایچ اے ڈی پی، کے تحت گریڈنگ اور پیکنگ یونٹس کے قیام سے باغبانی شعبے میں ایک نئی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور جدید گریڈنگ لائنوں کی تنصیب کے لیے کافی مانگ سامنے آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اننت ناگ ضلع میں مقررہ ہدف سے زیادہ یونٹس قائم کیے گئے ہیں اور اب تک 43 پورٹیبل گریڈنگ اینڈ پیکنگ لائنز قائم کی جا چکی ہیں۔
مزید پڑھیں:وادی میں لہسن کی کاشت سے زرعی انقلاب، سالانہ پیداوار 70 ہزار میٹرک ٹن سے تجاوز
مشتاق احمد نے کہا کہ ان یونٹس کے ذریعے نہ صرف معیاری سیب بروقت مارکیٹ تک پہنچ رہا ہے بلکہ یہ مراکز روزگار اور تجارت کے نئے مرکز کے طور پر بھی ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ کو مزید 10 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ ضروری کارروائی کے بعد ان یونٹس کو بھی منظوری دے دی جائے گی۔

