ETV Bharat / jammu-and-kashmir
میرواعظ کشمیر کا مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر تشویش کا اظہار، پاک - افغان مذاکرات پر دیا زور
میرواعظ کشمیر نے ایران میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کی سلامتی کے لیے ٹھوس اقدامات کی اپیل کی۔

By ETV Bharat Jammu & Kashmir Team
Published : February 27, 2026 at 5:42 PM IST
سرینگر (پرویز الدین) : میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کا کہنا ہے کہ "پڑوسی ممالک سے آنے والی خبریں بے حد پریشان کن ہیں۔ دو مسلم ریاستیں - پاکستان اور افغانستان- ماہِ مقدس میں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ انہوں نے کہا: "جنگیں صرف تباہی اور جانی نقصان کا سبب بنتی ہیں۔"
انہوں نے "عقل و دانش سے کام لیے جانے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک باہمی اختلافات کو مذاکرات اورخوشگوار ہمسائیگی کے اصولوں کے ذریعے حل کریں گے اور وہی راستہ اختیار کریں گےجو ہمارے نبی محمد ﷺ نے ہمیں دکھایا ہے۔
مقدس ماہِ رمضان کے دوسرے جمعہ کے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگرمیں ہزاروں فرزندانِ توحید کےاجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا: "مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت پریشان کن اور تشویشناک ہے۔ مقبوضہ فلسطین کے لوگ جو اسرائیل کے ہاتھوں ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی پر بین الاقوامی احتساب کے فقدان کے باعث اسرائیل مزید دلیر ہو گیا ہے اور وہ اپنے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کو بڑھا رہا ہے، مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمینوں پر قبضے کو باقاعدہ شکل دے رہا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ اسے کسی جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔" انہوں نے کہا کہ "نسل کشی کے بعد فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ظلم، بین الاقوامی قانون کی ناکامی اور عالمی برادری کے اخلاقی ضمیر کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔"
میرواعظ نے مزید کہا کہ "اسرائیل اپنی سرکشی کے ذریعے پورے خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے، کیونکہ خطے میں امریکہ کی بھاری فوجی موجودگی بڑھائی جا رہی ہے، جسے بہت سے مبصرین ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔" انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
کشمیر کے ایران کے ساتھ مضبوط ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ "کشمیر سے بڑی تعداد میں طلبہ ایران جاتے ہیں اور اس وقت وہاں زیرِ تعلیم ہیں اور اس جنگی نوعیت کی تیاری نے والدین اور اہلِ خانہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔" انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور وہاں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کی خیر و سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و استحکام کی دعا کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

