ETV Bharat / jammu-and-kashmir

کشمیر کی تاریخ میں 21 مئی سیاہ ترین دنوں میں سے ایک کی یاد دہانی، یادگاری اجتماعات پر پابندی افسوسناک: میرواعظ کشمیر

میرواعظ نے کہاکہ دھونس، طاقت اور پابندیوں کے ذریعے حکام نے عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اپنے جذبات کے اظہار سے روک دیا۔

میرواعظ کشمیر خانہ نظر بند، رہائش گاہ پر سکیورٹی اہلکاروں کا پہرہ
میرواعظ کشمیر خانہ نظر بند، رہائش گاہ پر سکیورٹی اہلکاروں کا پہرہ (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : May 21, 2026 at 3:45 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین): میر واعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ 21 مئی کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک دردناک دن کی یاد دہانی ہے، جب عوام اپنے محبوب قائد اور شہیدِ ملت میرواعظ مولوی محمد فاروقؒ کو خراج عقیدت پیش سے بھی محروم کر دیے گئے۔

یادگاری اجتماعات اور خراجِ عقیدت پیش کرنے پر عائد پابندیوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے کہ دھونس، طاقت اور میڈیا پر پابندیوں کے ذریعے حکام نے عوام کو اپنے محبوب قائدین اور شہدائے حول کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اپنے جذبات کے اظہار سے روک دیا۔


انہوں نے کہا کہ آج انفرادی طور پر بھی لوگوں کو مزارِ شہداء، عیدگاہ جا کر فاتحہ خوانی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جب کہ انہیں خود گذشتہ شام سے خانہ نظر بند رکھا گیا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ ہتھکنڈے نہ حقیقت کو بدل سکتے ہیں، نہ ان محبوب قائدین کی عظیم خدمات کو مٹا سکتے ہیں، اور نہ ہی عوام کے دلوں میں ان کے مقام کو کم کر سکتے ہیں۔

سابق میر واعط کی 36ویں برسی پر اجتماعات پر پابندی
سابق میر واعط کی 36ویں برسی پر اجتماعات پر پابندی، سکیورٹی سخت (ETV Bharat)

شہیدِ ملت میر واعظ مولوی محمد فاروقؒ کی یاد میں شہید قائد کی مختصر مگر اثر انگیز زندگی کی ایک جھلک بھی پیش کی جا رہی ہے جس میں کشمیر اور اس کے عوام کے لیے ان کی دینی، سماجی اور سیاسی خدمات کو یاد کیا گیا۔


انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد پیش آنے والے دردناک واقعات کو یاد کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اس روز پیش آنے والی تباہی، جس میں 70 سے زائد سوگوار شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، آج بھی عوام کی اجتماعی یادداشت میں پوری شدت کے ساتھ نقش ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں آج بھی غم و افسوس، عقیدت اور عزم کے ساتھ یاد کی جاتی ہیں۔

میر واعظ نے مزید کہا کہ برسوں بعد اسی تاریخ کو ایک اور معتدل اور جرات مند آواز شہیدِ حریت خواجہ عبدالغنی لون کو بھی خاموش کر دیا گیا اور انہیں عوام سے چھین لیا گیا۔


مزید پڑھیں: سابق میر واعط کی 36ویں برسی کے سلسلے میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد، 225 سے زائد یونٹس خون کا عطیہ

میرواعظ کا ذہن، جسم اور روح کی متوازن نشوونما پر زور، نوجوانوں میں گیجٹس کے بڑھتے استعمال پر کیا تشویش کا اظہار