ETV Bharat / jammu-and-kashmir

محبوبہ مفتی کا وزیر اعظم کے دورۂ اسرائیل پر سخت ردِعمل، جموں و کشمیر میں پنچائتی انتخابات اور کشمیری قیدیوں کے معاملے پر زور

محبوبہ نے عوام کو درپیش دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (Image: ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 26, 2026 at 3:27 PM IST

|

Updated : February 26, 2026 at 5:30 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

اننت ناگ: (فیاض لولو) جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملک کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ چالیس لاکھ عوام کے نمائندے کا ایک ایسے شخص کو گلے لگانا جس پر سنگین الزامات عائد ہوں، مناسب نہیں اور اس سے عالمی سطح پر ملک کی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔

اننت ناگ میں پارٹی لیڈران کے ایک اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور اصولی موقف برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پہچان ہمیشہ امن، رواداری اور انصاف کے اصولوں سے رہی ہے اور ایسے اقدامات سے ان اصولوں پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (Video : ETV Bharat)

انہوں نے جموں و کشمیر کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یوٹی جموں و کشمیر میں جلد از جلد پنچائتی انتخابات منعقد کروائے جانے چاہئیں تاکہ زمینی سطح پر تعمیر و ترقی کے عمل کو تقویت مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی نمائندوں کی عدم موجودگی سے عوامی مسائل حل نہیں ہو پا رہے اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے تاکہ عوام کو بااختیار بنایا جا سکے۔

محبوبہ مفتی نے بتایا کہ آج کی پارٹی میٹنگ میں کشمیری قیدیوں کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد کشمیری نوجوان مختلف جیلوں میں بند ہیں اور ان کے اہل خانہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان معاملات کا جائزہ لیا جائے اور بے گناہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

محبوبہ نے عوام کو درپیش دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں عام آدمی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔

میوہ جات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے بیرونی ممالک سے بغیر ٹیکس سیب اور دیگر پھلوں کی درآمد پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے کشمیری سیب کے کاشتکاروں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ کشمیر کی معیشت بڑی حد تک باغبانی خصوصاً سیب کی پیداوار پر منحصر ہے، اس لیے حکومت کو مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے اور درآمدی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

پارٹی اجلاس میں التجا مفتی سمیت دیگر سینئر رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور مختلف امور پر اپنی آرا پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہر فورم پر جموں و کشمیر کے لوگوں کی آواز بلند کرے گی۔

Last Updated : February 26, 2026 at 5:30 PM IST