ETV Bharat / jammu-and-kashmir
محبوبہ مفتی نے ایران حملے پر مودی اورعمر عبداللہ کی خاموشی پر اٹھائے سوال، مہدی، متو کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا
محبوبہ نے کہا، ہر مسلم ملک نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا تاہم ایران نے ہمیشہ ہندوستان کا ساتھ دیا۔

Published : March 4, 2026 at 3:55 PM IST
|Updated : March 4, 2026 at 4:33 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے رہنما اور ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی تصاویر کو نذر آتش کیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ایک مختصر پریس کانفرنس میں اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران پر حملے کی مذمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ملک کی قیادت اور نہ ہی جموں و کشمیر کی قیادت نے حملے کی مذمت کی اور نہ ہی ایرانی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط رہے ہیں، ایران واحد مسلم ملک ہے جس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے موقف کو سمجھا۔ دیگر مسلم ممالک ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، جب ہندوستان پر پابندیاں لگائی گئیں تو ایران نے ہندوستان کو مفت تیل فراہم کیا لیکن اس سب کے باوجود ہماری قیادت نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔
محبوبہ نے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی آغا روح اللہ مہدی اور سرینگر کے سابق میئر جنید متو کے خلاف مبینہ طور پر امن خراب کرنے کے الزام میں درج ایف آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم حکومت سے ان لوگوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جنہیں جیل میں ڈالا گیا ہے۔ ہم آغا روح اللہ مہدی اور جنید عظیم مٹو کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے آواز اٹھائی، اس لیے ان پر ایف آئی آر درج کرکے یہ نہ سمجھیں کے سب خاموش رہیں گے"۔

پولیس نے منگل کو نیشنل کانفرنس (این سی) کے رہنما اور ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی اور سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم متو کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹا اور گمراہ کن مواد پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مقدمات سرینگر کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن مواد کی گردش کے حوالے سے معتبر معلومات کے بعد درج کیے گئے تھے۔
محبوبہ نے ایران کی حمایت کرنے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کرنے پر مسلم ممالک کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، یہ ممالک اسرائیل کے بچے بن چکے ہیں، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن اس کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ ایران کے خلاف تھا۔
محبوبہ مفتی نے وادی کے نوجوانوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی تاکہ اقتصادی اور سیاحت کے شعبے متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے پرامن احتجاج کرنے کی اپیل کرتی ہوں۔ ہماری معاشی حالت بدحالی کا شکار ہے، موسم کی خرابی نے یہاں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی ٹیرف سے یہاں سیب کی صنعت کے لیے بحران پیدا ہو جائے گا۔ سیاحت میں تیزی آئی ہے، اسے پٹڑی سے نہیں اترنے دینا چاہیے۔ اس لیے میں نوجوانوں سے اپیل کرتی ہوں کہ ہر کام پرامن طریقے سے کریں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی پارٹی کے دفتر کے باہر احتجاج کرنا چاہتی تھی لیکن ’’حالات نے اس کی اجازت نہیں دی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ہم نے ان شیطانی قوتوں (ڈونلڈ) ٹرمپ اور (بنجمن) نتن یاہو کی تصاویر جلا دی تاکہ ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا سکے اور دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہم ایران بالخصوص کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پی ڈی پی سربراہ نے مظاہروں کے بعد کشمیر کے کئی اخبارات کے فیس بک پیجز پر پابندی لگانے کی بھی مذمت کی۔ انھوں نے سوال کیا، "کیا وہ صحافیوں کو یہاں سچ دکھانے سے روکنا چاہتے ہیں؟"
یہ بھی پڑھیں:

