ETV Bharat / jammu-and-kashmir
خامنہ ای کی آخری رسومات: محبوبہ مفتی تہران پہنچیں، آغا سید حسن موسوی کو ایران جانے سے روکا گیا
محبوبہ مفتی اور عمران انصاری نے تہران میں آخری رسومات میں شرکت کی، جبکہ کئی مدعو کشمیری رہنما مختلف وجوہات سے سیران نہ پہنچ سکے۔

Published : July 3, 2026 at 12:51 PM IST
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور سابق ایم ایل اے و شیعہ رہنما عمران انصاری نے تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ تقریب آج سے شروع ہوئی۔ آیت اللہ خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو ایران - امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ایران نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، سابق وزیر و آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن (AJKSA) کے صدر اور پیپلز کانفرنس کے رہنما مولوی عمران رضا انصاری، نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ رہنما آغا سید روح اللہ مہدی، شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی کو بھی مدعو کیا تھا۔
An honour for me to be here in Tehran to express my deepest condolences & solidarity on the martyrdom of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Sayyed Ali Khamenei- a revered leader who dared to stand against the tide & fought for the oppressed. pic.twitter.com/dyfRbNXhsr
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) July 3, 2026
محبوبہ مفتی نے کہا: "میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں تہران میں موجود ہوں تاکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر اپنی گہری تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرسکوں۔ وہ ایک ایسے قابل احترام رہنما تھے جنہوں نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کی۔"
پیپلز کانفرنس کے مطابق آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عمران رضا انصاری نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تابوت کے پاس کھڑے ہو کر انہیں آخری خراج عقیدت پیش کیا۔ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ غم اور عقیدت سے بھرپور اس موقع پر مولوی انصاری نے آنسوؤں کے ساتھ دعا کی اور مرحوم رہنما کی دین، انصاف، وقار اور ثابت قدمی کے لیے زندگی بھر کی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی میراث دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
With tears in his eyes and a heart filled with grief, All JK Shia Association President, Molvi @imranrezaansari pays his final tributes to Ayatullah Syed Ali Khamenei, standing beside his blessed coffin. It is a moment of profound sorrow, reverence, and reflection,
— All J&K Shia Association (@AJKSAOfficial) July 3, 2026
1/1 pic.twitter.com/RUeSxq2IK4
محبوبہ مفتی اور عمران انصاری کے برعکس این سی رہنما آغا سید روح اللہ مہدی بھارت میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کی وجہ سے ایران کا سفر نہ کرسکے۔ مسرور عباس انصاری بھی تہران نہ جاسکے کیونکہ انہیں 2017 سے پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔ آغا سید حسن موسوی الصفوی کو جمعرات کے روز دہلی ہوائی اڈے سے تہران جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق امیگریشن حکام نے ہوائی اڈے پر ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔
آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا: "ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔ میں آج دہلی سے واپس کشمیر جا رہا ہوں۔"
اتحاد المسلمین کے صدر اور شیعہ عالم مسرور عباس انصاری، جو ماضی میں حریت کانفرنس سے بھی وابستہ رہے ہیں، نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے باوجود گزشتہ نو برس سے انہیں پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔
#WATCH | Budgam, J&K: On being invited to the final rites of the Supreme Leader of Iran, Ayatollah Seyyed Ali Khamenei, President of Jammu and Kashmir Anjuman-e-Sharie Shian, Hujjatul Islam wal Muslimeen Aga Syed Hassan Al-Musavi Al-Safavi says, “I received an invitation via… pic.twitter.com/Dg6ouxWl4r
— ANI (@ANI) June 30, 2026
انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا: "اس محرومی نے صرف میرے سفر کو محدود نہیں کیا بلکہ مجھے بے شمار روحانی مواقع سے بھی محروم کر دیا، جن کی تلافی ممکن نہیں۔ آج میرا دل بہت زیادہ غمزدہ ہے۔ مجھے 4 جولائی سے شروع ہونے والی شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔ کسی بھی عقیدت مند کے لیے ایسے تاریخی اور جذباتی موقع پر موجود ہونا ایک بہت بڑا اعزاز اور زندگی میں ایک بار ملنے والی سعادت ہوتی۔ لیکن پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں اس دعوت پر لبیک نہیں کہہ سکا۔ لاکھوں سوگواروں کے ساتھ دعا میں شریک ہونے، آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اس تاریخی الوداع کا حصہ نہ بن سکنا ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ غم ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا۔"
ان رہنماؤں کو دعوت نامے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے ڈائریکٹر محسن قمی کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔
تقریب کی تفصیلات کے مطابق ایران میں 3 جولائی 2026 کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں الوداعی تقریب ہوگی، 4 جولائی کو تہران کے سمٹ کانفرنس ہال میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوگا، جبکہ 6 جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس برآمد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:

