ETV Bharat / jammu-and-kashmir

میڈیا اور سوشل میڈیا ذمہ داری، اخلاق اور احتساب کے ساتھ استعمال کیا جائے: میرواعظ کشمیر

میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے کہاکہ میڈیا معاشرے کا ایک اہم ستون ہے اور آج سوشل میڈیا کی کافی اہمیت ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا ذمہ داری، اخلاق اور احتساب کے ساتھ استعمال کیا جائے: میرواعظ کشمیر
میڈیا اور سوشل میڈیا ذمہ داری، اخلاق اور احتساب کے ساتھ استعمال کیا جائے: میرواعظ کشمیر (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 3, 2026 at 4:58 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

سرینگر (پرویز الدین) میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے آج تاریخی مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افراد، معاشرے، میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں ذمہ داری، تحمل اور اخلاقی جوابدہی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا ذمہ داری، اخلاق اور احتساب کے ساتھ استعمال کیا جائے: میرواعظ کشمیر (ETV Bharat)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیا کہ "خبردار، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے زیر کفالت کے بارے میں سوال کیا جائے گا-" میرواعظ نے کہا کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے جس کے لیے وہ جوابدہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اطلاق والدین، اساتذہ، تاجروں، رہنماؤں، عوامی شخصیات اور میڈیا پر بھی ہوتا ہے جو رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ میڈیا معاشرے کا ایک اہم ستون ہے اور آج سوشل میڈیا کی کافی اہمیت ہے۔ جب حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کو آگاہ اور مضبوط کرتا ہے۔ لیکن جب صرف ناظرین کی تعداد یا ٹی آر پی بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تو اس کے اثرات پر غور کیے بغیریہ شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک حالیہ وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں ایک نابالغ بچے سے گرمی اور اسکول کی چھٹیوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا، اور جس کا غیر مہذب جواب نشر کیا گیا تھا اور بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا تھا، میرواعظ نے اس طرح کے مواد پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا نابالغ بچوں کو سوشل میڈیا پر اس طرح سے بے نقاب کیا جانا چاہیے اور اس کے نتائج کو سمجھے بغیر عوامی ردعمل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

میرواعظ نے کہا کہ بچے مستقبل ہیں اور ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے سامنے آنے والا مواد ان کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تفریح، تشہیر یا سوشل میڈیا کی مصروفیت کا آلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذمہ دار میڈیا اور سوشل میڈیا کو حساسیت اور جوابدہی کی ضرورت ہے۔ کیمرے اور مائیکروفون رکھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ معاشرے اور اللہ کے سامنے ایک ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں بھارت کا دوٹوک مؤقف: ’’دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں‘‘


میرواعظ نے میڈیا والوں، مواد تخلیق کرنے والوں اور سوشل میڈیا صارفین سے احتیاط، تحمل اور ذمہ داری سے کام لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں ہم جس قسم کا معاشرہ بنیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم موبائل پر کیا دیکھتے ہیں ۔لائک اور شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ حکمت اور سمجھداری کے ساتھ مواد کا اشتراک کریں اور کہا کہ عوامی گفتگو حتاکہ اختلاف میں بھی پختگی، احترام اور اخلاقی ذمہ داری کی عکاسی کی جانی چاہیےتاکہ بچوں کے سامنے ایک اچھی مثال پیش کی جا سکیں۔